
تانترک کے مشورے پر 10 سالہ بچے کی انسانی قربانی، قریبی رشتہ دار کو سزائے موت
انسانی قربانی کیس میں عدالت کا سخت فیصلہ
بہرائچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے ضلع بہرائچ کے نانپارا کوتوالی علاقے میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے انسانی قربانی کیس میں عدالت نے سخت فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کزن کو سزائے موت دے دی۔ یہ فیصلہ 23 مارچ 2023 کو 10 سالہ بچے کے بہیمانہ قتل کے معاملے میں سنایا گیا۔
چوتھے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سنیل پرساد نے پارسا اگایا بستی کے رہائشی انوپ کمار ورما کو قصوروار قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی، جبکہ اس پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
استغاثہ کے مطابق، 10 سالہ وویک ورما ولد رام کشون کی نعش 23 مارچ 2023 کی شام پارسا اگایا بستی کے ایک کھیت سے برآمد ہوئی تھی۔ بچے کو تیز دھار ہتھیار سے بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ واردات کے وقت وویک کے والد خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ایک دعوت میں شریک تھے۔ اطلاع ملتے ہی وہ فوری طور پر گاؤں پہنچے اور پولیس میں شکایت درج کرائی۔
ابتدائی طور پر مقدمہ قتل اور مجرمانہ سازش کی دفعات کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا، تاہم تفتیش کے دوران پولیس نے مقتول کے کزن انوپ کمار ورما، چنتا رام اور ایک تانترک جنگلی کو گرفتار کیا۔
سرکاری وکیل اور اے ڈی جی کریمنل سنیل کمار جیسوال نے عدالت کو بتایا کہ انوپ کمار ورما کا بیٹا شدید بیماری میں مبتلا تھا۔ اسی دوران ایک تانترک نے مبینہ طور پر انسانی قربانی کا مشورہ دیا، جس کے بعد انوپ نے اپنے ہی کزن وویک ورما کو کسی بہانے سے لے جا کر قتل کر دیا۔
عدالت نے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر انوپ کمار ورما کو قصوروار ٹھہرایا، جبکہ ناکافی ثبوت کی بنا پر دیگر دو ملزمان چنتا رام اور تانترک جنگلی کو بری کر دیا گیا۔ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ جرم “انتہائی سنگین، غیر انسانی اور سماج کو جھنجھوڑ دینے والا” ہے، جس پر رحم کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ فیصلہ ایک بار پھر توہم پرستی اور تانترک عقائد کے خطرناک نتائج کی سنگین مثال بن کر سامنے آیا ہے۔



