سرورققومی خبریں

ساورکر کی تصاویر ہٹانے کی عرضی خارج،عدالت کا وقت ضائع نہ کریں,سپریم کورٹ

اس نوعیت کی درخواستیں عدالتی وقت کا ضیاع ہیں

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے منگل کے روز عوامی مقامات سے ساورکر کی تصاویر ہٹانے سے متعلق مفادِ عامہ کی عرضی پر سماعت سے انکار کرتے ہوئے اسے خارج کر دیا۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ اس نوعیت کی درخواستیں عدالتی وقت کا ضیاع ہیں اور انہیں غیر سنجیدہ قرار دیا۔

یہ معاملہ سپریم کورٹ میں اس وقت زیرِ غور آیا جب درخواست گزار بی بالامورگن، جو ایک ریٹائرڈ آئی آر ایس افسر ہیں، نے پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال اور دیگر سرکاری مقامات سے ساورکر کی تصاویر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ بنچ نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اس طرح کے معاملات میں الجھ کر قیمتی وقت ضائع نہیں کرے گی۔

چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ، جس میں جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی شامل تھے، نے درخواست گزار کو سخت الفاظ میں متنبہ کیا کہ اس قسم کی عرضیاں جرمانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ وہ بھاری جرمانہ عائد کرنے پر غور کر رہی ہے اور درخواست گزار کو مشورہ دیا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد معاشرے میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں۔

درخواست گزار کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت کو ایسے افراد کی عزت افزائی نہیں کرنی چاہیے جن پر سنگین الزامات ہوں اور جنہیں عدالت نے باعزت بری نہ کیا ہو۔ تاہم بنچ نے اس دلیل کو بھی غیر متعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ایسے مطالبات پر وقت صرف نہیں کرے گی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے درخواست گزار کے ماضی اور کیریئر سے متعلق سوالات بھی اٹھائے اور کہا کہ اس طرح کی فضول درخواستیں ذہنیت کی عکاس ہوتی ہیں۔ عدالت نے یہاں تک کہا کہ اگر درخواست واپس نہ لی گئی تو جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

بالآخر، عدالت کے سخت رویے کے بعد درخواست گزار نے اپنی مفادِ عامہ کی عرضی واپس لینے پر رضامندی ظاہر کی، جس کے بعد سپریم کورٹ نے باضابطہ طور پر درخواست خارج کر دی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button