امریکہ بمقابلہ ایران: فوجی طاقت کے لحاظ سے کون زیادہ طاقتور؟
امریکہ اور ایران کے تعلقات ایک بار پھر خطرناک موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔
دبئی 13/جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران میں بڑھتے ہوئے اندرونی بحران، مہنگائی، سیاسی دباؤ اور پرتشدد مظاہروں کے پس منظر میں امریکہ اور ایران کے تعلقات ایک بار پھر خطرناک موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت وارننگ نے مشرق وسطیٰ میں ممکنہ جنگ کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر ایرانی قیادت نے شہریوں کے خلاف تشدد کا سلسلہ جاری رکھا تو امریکہ فوجی کارروائی کے تمام آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی سے منسوب بیانات میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی فوجی اڈے براہ راست نشانے پر ہوں گے۔ اس سخت لب و لہجے نے پورے مشرق وسطیٰ کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
امریکی فوجی موجودگی کی بات کی جائے تو امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے مضبوط اسٹریٹجک نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق خطے میں تقریباً چالیس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جو بری، بحری اور فضائی افواج پر مشتمل ہیں۔ بحرین، قطر، کویت، سعودی عرب، عراق، شام، اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈے امریکہ کو فوری فوجی ردعمل کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ قطر میں العدید ایئر بیس اور بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا خاص طور پر غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
اگر فوجی طاقت کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو امریکہ اور ایران کے درمیان فرق نمایاں ہے۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت سمجھا جاتا ہے، جس کا دفاعی بجٹ سینکڑوں ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور اس کے پاس جدید ترین جنگی طیارے، بحری بیڑے اور سیٹلائٹ نظام موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایران کا دفاعی بجٹ محدود ہے اور فضائی قوت بھی نسبتاً کمزور مانی جاتی ہے۔
تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کی اصل طاقت اس کی غیر روایتی جنگی صلاحیتوں میں ہے۔ ایران کے پاس بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرون ٹیکنالوجی کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں موجود اس کے اتحادی گروہ، جنہیں محورِ مزاحمت کہا جاتا ہے، کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں امریکہ کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے پاس ایران کے خلاف کئی راستے موجود ہیں، جن میں محدود فضائی حملے، سائبر کارروائیاں اور معاشی دباؤ شامل ہیں۔ دوسری طرف خامنہ ای کی حکمت عملی براہ راست جنگ کے بجائے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے پر مبنی ہو سکتی ہے، جس کا سب سے بڑا اثر عالمی تیل کی سپلائی اور عالمی معیشت پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
مختصر یہ کہ اگرچہ فوجی طاقت کے لحاظ سے امریکہ واضح برتری رکھتا ہے، لیکن ایران کی علاقائی اثر و رسوخ اور غیر روایتی صلاحیتیں کسی بھی ممکنہ جنگ کو طویل اور خطرناک بنا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ بمقابلہ ایران کا تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔



