بین ریاستی خبریںسرورق

دو بچوں کے باپ کی خفیہ صنفی تبدیلی، دو سال بعد بیوی کو حقیقت کا علم، گورکھپور میں سنسنی خیز معاملہ

گورکھپور میں صنفی تبدیلی کا انکشاف، میاں بیوی کا تنازع عدالت پہنچ گیا

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اترپردیش کے ضلع گورکھپور کے علاقے بانسگاؤں سے ایک غیر معمولی اور سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں سات سالہ ازدواجی رشتہ اس وقت بحران کا شکار ہو گیا جب ایک خاتون کو معلوم ہوا کہ اس کا شوہر خفیہ طور پر صنفی تبدیلی سرجری کروا چکا ہے۔ دو بچوں کے باپ کی جانب سے یہ حقیقت چھپائے رکھنے کا انکشاف ہونے کے بعد معاملہ پہلے تھانے اور اب عدالت تک جا پہنچا ہے۔

متاثرہ خاتون کے مطابق شادی کے ابتدائی دنوں سے ہی شوہر کا رویہ عام شوہروں سے مختلف تھا۔ اگرچہ وہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا، مگر بیوی سے جذباتی وابستگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ خاتون کا الزام ہے کہ اسے معمولی باتوں پر ذہنی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ گھر کا ماحول مستقل طور پر کشیدہ رہا، تاہم بچوں کے مستقبل کی خاطر وہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتی رہی۔

خاتون نے عدالت میں دائر درخواست میں شوہر پر نہایت سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ اس کے مطابق شوہر اپنے دو مرد دوستوں کے ساتھ غیر فطری جنسی تعلقات رکھتا تھا اور بیوی کو بھی ان سرگرمیوں میں شامل ہونے پر مجبور کرتا تھا۔ انکار کی صورت میں مارپیٹ، دھمکیاں اور گھر سے نکالنے کی وارننگ دی جاتی تھی۔ متاثرہ کا کہنا ہے کہ اس مسلسل دباؤ نے اسے ذہنی طور پر توڑ کر رکھ دیا تھا۔

یہ معاملہ اس وقت پوری طرح سامنے آیا جب خاتون کو دہلی کے ایک اسپتال سے متعلق میڈیکل دستاویزات ہاتھ لگیں۔ اس کے مطابق شوہر نے تقریباً دو سال قبل خفیہ طور پر دہلی جا کر صنفی تبدیلی سرجری کروا لی تھی، جس کی نہ خاندان کو اطلاع دی گئی اور نہ ہی بیوی کو اعتماد میں لیا گیا۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ اس انکشاف کے بعد شوہر کا رویہ مزید پرتشدد ہو گیا اور گزشتہ سال اسے بچوں سمیت گھر سے نکال دیا گیا۔

متاثرہ خاتون نے اپنے اور اپنی دو بیٹیوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ اس نے شوہر پر دھوکہ دہی، ظلم اور غیر انسانی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے مالی معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے اسے سماجی اور ذہنی طور پر شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کے بچوں کو بھی مستقبل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب شوہر نے بیوی کے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ صنفی تبدیلی اس کا ذاتی فیصلہ تھا اور آئین اسے اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے اور رازداری کا حق دیتا ہے۔ اس کے مطابق اس فیصلے کو جرم یا دھوکہ دہی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

بانسگاؤں کا یہ معاملہ نہ صرف عدالت بلکہ قانونی ماہرین کے لیے بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔ ہندوستانی قوانین میں شادی کے بعد صنفی تبدیلی، ازدواجی ذمہ داریوں اور بچوں کی کفالت جیسے معاملات پر واضح نظائر کم ہیں۔ عدالت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا صنفی تبدیلی کو چھپانا قانونی طور پر دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں، اور کیا بیوی پر ہونے والا مبینہ تشدد ثابت ہوتا ہے۔

بچوں کا مستقبل داؤ پر

اس قانونی لڑائی کے بیچ دو معصوم بیٹیوں کا مستقبل سب سے بڑا سوال بن چکا ہے۔ متاثرہ کا کہنا ہے کہ شوہر نے کوئی بھی فیصلہ لیتے وقت بچوں کے بارے میں نہیں سوچا، جس کے نتیجے میں وہ سماجی اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔

فی الحال معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور دونوں فریقین کی جانب سے دلائل اور ضمنی درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں۔ عدالت کا حتمی فیصلہ نہ صرف اس خاندان بلکہ مستقبل میں ایسے دیگر حساس مقدمات کے لیے بھی ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button