رکشہ چلانے والے اور جج کا بچہ ایک ہی کلاس میں پڑھے، یہی حقیقی سماجی برابری ہے: سپریم کورٹ
25 فیصد RTE کوٹہ محض اسکیم نہیں، آئینی حق ہے: سپریم کورٹ
حیدرآباد 14۔جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ملک کے تعلیمی نظام کے ذریعے آئین میں درج ’’سماجی اخوت‘‘ (Fraternity) کے مقصد کو حاصل کرنے کی سمت سپریم کورٹ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ حقیقی سماجی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب ایک رکشہ یا آٹو چلانے والے کا بچہ، کسی کروڑ پتی یا سپریم کورٹ کے جج کے بچے کے ساتھ ایک ہی کلاس روم میں، ایک ہی بنچ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرے۔
سپریم کورٹ نے تعلیم کا حق قانون (RTE) کے تحت نجی غیر امدادی اسکولوں میں غریب اور پسماندہ طبقات کے بچوں کے لیے مختص 25 فیصد مفت نشستوں کے مؤثر نفاذ سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے۔ اس مقدمے کی سماعت جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس اے ایس چندورکر پر مشتمل بنچ نے کی۔
عدالت نے کہا کہ “کسی آٹو ڈرائیور یا سڑک کنارے کاروبار کرنے والے کے بچے کا، کسی امیر گھرانے کے بچے کے ساتھ ایک ہی اسکول میں پڑھنا ایک فطری اور تعمیری عمل بننا چاہیے۔ یہ محض کوئی فلاحی اسکیم نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 21-اے اور 39(ایف) کے تحت بچوں کو دیا گیا بنیادی حق ہے۔”
عدالت نے مزید کہا کہ RTE قانون کی دفعہ 12 ایسے ماحول کی تشکیل میں مدد دیتی ہے جہاں ذات، طبقہ یا معاشی حیثیت پر مبنی مصنوعی تفریق ختم ہو اور بچے ایک دوسرے کے ساتھ قدرتی طور پر گھل مل سکیں۔
سپریم کورٹ نے اس موقع پر کوٹھاری کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مشترکہ اسکول نظام ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے سماج کے تمام طبقات کے بچے بغیر کسی امتیاز کے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اس سوچ کو مسترد کیا کہ غریب بچے خوشحال ماحول میں خود کو ہم آہنگ نہیں کر سکتے، اور اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ بچوں کے سماجی پس منظر کو کمزوری کے بجائے ایک تعلیمی وسیلہ بنائیں اور ان کے وقار کو فروغ دیں۔
عدالت نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ RTE ایکٹ کی دفعہ 12(1)(c) کے مؤثر نفاذ کے لیے واضح اور مضبوط قواعد و ضوابط تیار کریں۔ دفعہ 38 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے، کمزور اور پسماندہ طبقات کے بچوں کے داخلوں سے متعلق ضروری ذیلی قوانین (Subordinate Legislation) بنائے جائیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ان قواعد کی تیاری یکطرفہ نہ ہو بلکہ اس میں متعلقہ اداروں کی شراکت داری یقینی بنائی جائے۔ عدالت نے نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR)، ریاستی کمیشنز (SCPCR) اور قومی و ریاستی سطح کے مشاورتی بورڈز سے مشاورت کے بعد پالیسی وضع کرنے کی ہدایت دی۔
سپریم کورٹ نے اس پورے عمل کی نگرانی کے لیے ایک مدت مقرر کی ہے۔ عدالت نے این سی پی سی آر کو ہدایت دی کہ وہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے جاری یا مجوزہ قواعد و ضوابط کی تفصیلات جمع کرے اور انہیں یکجا کر کے 31 مارچ تک ایک جامع حلف نامہ عدالت میں داخل کرے۔



