قومی خبریں

چائنیز مانجھے کے خلاف سخت کارروائی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا انتباہ، والدین بھی ہوں گے ذمہ دار

“چائنیز مانجھے کا استعمال انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہے، قانون اس میں کوئی نرمی برداشت نہیں کرے گا”

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش میں چائنیز مانجھے سے ہونے والے جان لیوا حادثات پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ ممنوعہ چینی مانجھے پر عائد پابندی کو پوری سختی کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی نابالغ اس خطرناک نائلون دھاگے کا استعمال کرتے ہوئے پتنگ اڑاتا پایا گیا تو اس کے والدین یا سرپرست کو قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

یہ اہم ہدایات جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل بنچ نے جاری کیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ عوام کے درمیان بڑے پیمانے پر اس بات کی تشہیر کی جائے کہ چائنیز مانجھے کی فروخت یا استعمال تعزیرات ہند کی دفعہ 106(1) کے تحت جرم ہے، جو لاپرواہی سے موت کا سبب بننے کے معاملات میں لاگو ہوتی ہے۔ اس دفعہ کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

عدالت نے 11 دسمبر کو چائنیز مانجھے سے ہونے والی اموات اور حادثات کا ازخود نوٹس لیا تھا۔ سماعت کے دوران ریاستی حکومت نے بنچ کو بتایا کہ چائنیز مانجھے کی فروخت روکنے کے لیے پہلے ہی متعدد اقدامات کیے جا چکے ہیں اور پتنگ کے دھاگے سے پیش آنے والے حادثات کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد جاری ہے۔ حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی۔

ہائی کورٹ نے اپنے خصوصی حکم میں زور دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ فوری طور پر عوام کو آگاہ کرے کہ چائنیز مانجھے کی خرید و فروخت یا استعمال ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی نابالغ چینی نائلون دھاگے کے ساتھ پکڑا جاتا ہے تو اس کے سرپرست کو بھی ذمہ داری سے بری نہیں کیا جا سکتا۔

سماعت کے دوران اندور کے ضلع مجسٹریٹ شیوم ورما نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ کی ہدایات پر مکمل عمل کیا جائے گا اور ضروری احکامات فوری طور پر جاری کر کے پڑوسی اضلاع تک بھی پہنچائے جائیں گے۔ انتظامیہ کے مطابق گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں اندور میں پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات میں ایک 16 سالہ لڑکا اور ایک 45 سالہ شخص چائنیز مانجھے سے گلا کٹنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔

واضح رہے کہ چائنیز مانجھے پر پہلے ہی پابندی عائد ہے، اس کے باوجود بعض پتنگ باز اسے اپنے حریفوں کی پتنگ کاٹنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، جو راہگیروں اور دو پہیہ گاڑی سواروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ ہائی کورٹ کے حالیہ حکم کو انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ایک سخت مگر ضروری قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button