واٹس ایپ پر ’مفت 5 ہزار روپے‘ کے نام پر نیا سائبر فراڈ، پولیس کا عوامی انتباہ
جعلی گفٹ لنکس کے ذریعے عوام کو لوٹا جا رہا ہے، پولیس کی وارننگ
حیدرآباد۔ 19-جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مکر سنکرانتی اور یومِ جمہوریہ کی تعطیلات کے دوران عوام کی مصروفیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سائبر مجرم نئے طریقوں سے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس خطرناک رجحان کے پیشِ نظر حیدرآباد کے کمشنر پولیس وی سی سجنار کی جانب سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے، جس میں عوام کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق واٹس ایپ پر جعلی لنکس تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، جن میں ’فون پے یومِ جمہوریہ میگا گفٹ‘ اور ’سنکرانتی گفٹ‘ جیسے پیغامات شامل ہیں۔ ان پیغامات میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لنک پر کلک کرنے سے صارف کے اکاؤنٹ میں مفت 5 ہزار روپے منتقل ہو جائیں گے، جو سراسر جھوٹ اور فراڈ ہے۔
پولیس نے بتایا کہ بعض پیغامات میں یہ جملہ شامل ہوتا ہے کہ ’’مجھے پہلے یقین نہیں تھا لیکن واقعی پیسے مل گئے‘‘۔ یہ ایک نفسیاتی حربہ ہے، جس کے ذریعے لوگوں کو لالچ دے کر پھنسایا جاتا ہے۔ اگر ایسا پیغام کسی جاننے والے یا گروپ سے بھی موصول ہو تو بغیر تصدیق کے اس پر ہرگز کلک نہ کریں۔
ایسے فراڈی لنکس میں اکثر عجیب و غریب الفاظ اور ڈومین شامل ہوتے ہیں، جیسے fdgc.lusvv.xyz یا iom.qmtyw.xyz۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ فون پے کے سرکاری لنکس نہیں ہوتے اور ان کا اصل ایپس سے کوئی تعلق نہیں۔
ان لنکس پر کلک کرنے سے موبائل فون میں خطرناک میل ویئر داخل ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ذاتی معلومات، بینک پن، پاس ورڈ اور دیگر حساس ڈیٹا چوری ہو سکتا ہے۔ کئی معاملات میں چند ہی منٹوں میں بینک اکاؤنٹ خالی ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
پولیس نے زور دے کر کہا کہ فون پے، گوگل پے یا کوئی بھی دوسری ڈیجیٹل ادائیگی کمپنی واٹس ایپ لنکس کے ذریعے رقم تقسیم نہیں کرتی۔ کسی بھی حقیقی آفر کی اطلاع صرف متعلقہ سرکاری ایپ یا مصدقہ پلیٹ فارم پر ہی دی جاتی ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص غلطی سے ایسے لنک پر کلک کر بیٹھے اور مالی نقصان ہو جائے تو فوری طور پر 1930 پر کال کرے یا cybercrime.gov.in پر آن لائن شکایت درج کرائے، تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔
حیدرآباد پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ لالچ میں آ کر مشکوک لنکس پر کلک نہ کریں، اس طرح کے پیغامات کو آگے فارورڈ کرنے سے گریز کریں اور اپنے اہلِ خانہ و دوستوں کو بھی سائبر فراڈ کے ان طریقوں سے آگاہ کریں۔



