ایران کا خفیہ سفارتی پیغام، واشنگٹن کی ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر
کشیدگی عروج پر، تہران کے خفیہ رابطے نے جنگ ٹال دی
لندن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ دنوں میں شدت اختیار کرنے والی کشیدگی کے دوران ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو ممکنہ بڑی جنگ سے وقتی طور پر بچا لیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے بھیجا گیا ایک خفیہ پیغام امریکہ کی متوقع فوجی کارروائی رکنے کا سبب بنا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک ایسا لمحہ آیا جب پورا خطہ شدید بے چینی کا شکار تھا اور امریکہ ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر عسکری کارروائی کے قریب پہنچ چکا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کارروائی ایران میں عوامی احتجاج کو کچلنے کے ردعمل میں زیر غور تھی۔
ذرائع کے مطابق امریکی فوجی تیاریوں میں تیزی آ چکی تھی، سینٹرل کمانڈ کے تحت بحری جنگی جہازوں کی ازسرِنو تعیناتی کی گئی، جبکہ قطر میں واقع العدید فضائی اڈے پر الرٹ کی سطح بلند کر دی گئی۔ اسی دوران امریکی خفیہ اداروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کی زمینی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
عین اسی مرحلے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پس پردہ سفارتی چینل استعمال کرتے ہوئے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ایک خفیہ ٹیکسٹ پیغام ارسال کیا۔ پیغام میں ایران کی جانب سے مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت کے استعمال کو روکنے اور احتجاجی تحریک سے وابستہ گرفتار افراد کے خلاف متوقع سزاؤں پر نظرثانی کی یقین دہانی شامل تھی۔
امریکی حکام کے مطابق اس پیغام نے صورتحال کا رخ بدل دیا۔ صدر ٹرمپ نے فوجی کارروائی مؤخر کرتے ہوئے ایران کے وعدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا اور صحافیوں سے گفتگو میں عندیہ دیا کہ حالات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اندر اس معاملے پر شدید اختلافات موجود تھے۔ ایک دھڑا ایران کو دباؤ میں لانے کے حق میں تھا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور اسٹیو وٹکوف کی قیادت میں ایک گروپ نے خبردار کیا کہ مکمل جنگ خطے میں موجود عرب اتحادیوں کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
دوسری جانب تہران نے ان اطلاعات کی سرکاری سطح پر تردید کی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اجتماعی سزاؤں سے متعلق خبریں گمراہ کن ہیں اور ان کا مقصد بیرونی دباؤ کو ہوا دینا ہے۔ تہران کے پراسیکیوٹر جنرل نے واضح کیا ہے کہ ملکی خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران شدید معاشی دباؤ اور عوامی بے چینی سے دوچار ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ خفیہ پیغام کے بعد وقتی سکون ضرور پیدا ہوا ہے، تاہم امریکی فوجی آپشن اب بھی میز پر موجود ہے اور آنے والے دن خطے کے لیے نہایت فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔



