سرورقفلمی دنیا

کیا حکومت 500 روپے کے نوٹ پر پابندی لگانے والی ہے؟ وائرل دعوے کی حقیقت

“500 روپے کے نوٹ پر پابندی کا دعویٰ.....

حیدرآباد 19۔جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ بھارتی حکومت کالے دھن کو روکنے کے لیے 500 روپے کے نوٹ پر پابندی لگانے جا رہی ہے۔ اس دعوے کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی تصاویر پر مبنی ایک گرافک بھی شیئر کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ حکومت اس فیصلے کی تیاری کر رہی ہے۔ ایک صارف پریا پروہت کی جانب سے شیئر کی گئی اس پوسٹ نے عوام میں تشویش اور سوالات کو جنم دیا۔

اس وائرل دعوے پر پریس انفارمیشن بیورو کے فیکٹ چیکنگ یونٹ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر غلط قرار دیا ہے۔ پی آئی بی کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے 500 روپے کے نوٹ پر پابندی سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ پی آئی بی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جعلی گرافک کو “جعلی” کی مہر کے ساتھ مسترد کیا۔

حکومت پہلے بھی واضح کر چکی ہے کہ مالیاتی پالیسیوں سے متعلق کسی بھی بڑے فیصلے کا اعلان صرف ریزرو بینک آف انڈیا اور وزارت خزانہ کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات پر یقین کرنا عوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی افواہیں نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پھیلاتی ہیں بلکہ بینکنگ نظام پر غیر ضروری دباؤ بھی ڈال سکتی ہیں، جیسا کہ 2016 کی نوٹ بندی کے دوران دیکھا گیا تھا۔ پی آئی بی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مالیاتی پالیسیوں سے متعلق معلومات صرف سرکاری ذرائع جیسے پی آئی بی، آر بی آئی کی ویب سائٹ یا مستند سرکاری ایپس سے ہی حاصل کریں۔

اس واقعے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ سوشل میڈیا صارفین کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں۔ جعلی خبروں کے پھیلاؤ کو روکنے میں پی آئی بی جیسی تنظیمیں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، لیکن عوامی شعور اور احتیاط بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button