قابض اسرائیل کا القدس کے البستان محلے پر نیا قبضہ، درجنوں خاندانوں کی بے دخلی کا خطرہ
القدس کے سلوان علاقے میں واقع البستان محلہ جہاں فلسطینی گھروں کو مسماری کا سامنا ہے
غزہ 19۔جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)قابض اسرائیلی بلدیہ نے مشرقی القدس میں واقع سلوان بلدہ کے البستان محلے کے رہائشیوں کو ان کی زمینوں پر قبضے کے باضابطہ نوٹس جاری کر دیے ہیں، جس سے علاقے میں ایک نئی بے دخلی لہر کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ زمین مسجد اقصیٰ کے جنوبی حصے کے قریب واقع ہے اور مکمل طور پر فلسطینی شہریوں کی نجی ملکیت پر مشتمل ہے۔
القدس گورنری کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قابض حکام تقریباً 1100 مربع میٹر اراضی کو اپنی تحویل میں لینے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس اقدام کو باغات کی آرائش اور گاڑیوں کے لیے پارکنگ کے منصوبے کے نام پر درست ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بیان کے مطابق قابض بلدیاتی حکام ایک پرانے بلدیاتی قانون کا حوالہ دے کر اس زمین کو خالی اراضی قرار دے رہے ہیں، حالانکہ یہ دعویٰ زمینی حقائق کے برعکس ہے۔
گورنری نے واضح کیا کہ جس زمین کو خالی کہا جا رہا ہے، وہ دراصل ان گھروں کے ملبے پر مشتمل ہے جنہیں ماضی میں زبردستی مسمار کیا گیا۔ ان گھروں کے مالکان کو نہ دوبارہ تعمیر کی اجازت دی گئی اور نہ ہی زمین کے کسی اور استعمال کا حق دیا گیا، تاکہ وقت کے ساتھ اسے “غیر استعمال شدہ” ظاہر کر کے قبضے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ یہ اقدام محض ایک وقتی یا عارضی انتظام نہیں بلکہ ایک منظم قانونی فریب ہے، جس کا مقصد فلسطینی شہریوں کو ان کی زمینوں سے محروم کر کے القدس میں مستقل استعماری حقیقت مسلط کرنا ہے۔ گورنری کے مطابق حالیہ نوٹس اسی سلسلے کی کڑی ہے جس کے تحت رواں ماہ کے آغاز میں محلے کی مزید 5.7 دونم اراضی پر قبضے کا اعلان کیا گیا تھا۔
القدس گورنری نے بلدیہ کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ یہ قبضہ صرف پانچ سال کے لیے ہوگا۔ بیان میں کہا گیا کہ ماضی کے تجربات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایسے اقدامات ہمیشہ مستقل قبضے اور فلسطینی شہری توسیع کی مکمل بندش پر منتج ہوتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے البستان محلے میں 35 عمارتیں مسمار کی جا چکی ہیں، جبکہ تقریباً 1500 فلسطینی شہری 120 گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔ قابض حکام محلے کے 80 فیصد گھروں کو مسماری کے فوری خطرے سے دوچار قرار دے چکے ہیں، جس سے پورا علاقہ اجتماعی سزا اور منظم دباؤ کی پالیسی کی لپیٹ میں ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سلوان بلدہ میں روزانہ کی بنیاد پر سڑکوں کی بندش، گرفتاریاں اور احتجاجی خیموں کی مسماری جیسے اقدامات شہریوں کو جبری بے دخلی پر مجبور کرنے کی کوشش ہیں، تاکہ مسجد اقصیٰ کے قرب و جوار کو فلسطینی موجودگی سے خالی کیا جا سکے۔
القدس گورنری نے عالمی برادری سے فوری اور مؤثر مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس قانونی اور انسانی جرم کو نہ روکا گیا تو القدس قدیم کے گرد قبضے کا گھیرا مزید تنگ ہو جائے گا، جس کے نتائج پورے خطے کے لیے سنگین ہوں گے۔



