قومی خبریں

کلدیپ سینگر کو اُناؤ عصمت دری متاثرہ کے والد کی موت کیس میں کوئی راحت نہیں

دہلی ہائی کورٹ میں کلدیپ سینگر کیس کی سماعت- کیس میں سزا معطل کرنے سے انکار

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی ہائی کورٹ نے اُناؤ عصمت دری متاثرہ لڑکی کے والد کی حراستی موت کے مقدمے میں سابق بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سینگر کو کسی بھی قسم کی عدالتی راحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کلدیپ سینگر کی 10 سالہ سخت قید کی سزا معطل کرنے کی درخواست خارج کر دی۔

جسٹس رویندر دوديجا نے پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سزا معطل کرنے کے لیے کوئی معقول بنیاد پیش نہیں کی جا سکی۔ عدالت نے واضح کیا کہ مقدمات کی سماعت میں تاخیر کے لیے خود ملزم بھی ذمہ دار ہے کیونکہ اس کی جانب سے بار بار مختلف درخواستیں دائر کی گئیں، جس سے عدالتی کارروائی متاثر ہوئی۔

عدالت نے تاہم ہدایت دی کہ عصمت دری کیس اور حراستی موت کیس میں دائر اپیلوں کی سماعت کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ واضح رہے کہ دسمبر 2019 میں کلدیپ سینگر کو عصمت دری کے جرم میں عمر قید جبکہ مارچ 2020 میں متاثرہ کے والد کی حراستی موت کے مقدمے میں 10 سال سخت قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ متاثرہ خاندان کے واحد کفیل کو جھوٹے اسلحہ قانون کے مقدمے میں گرفتار کروا کر پولیس حراست میں مروا دینا ایک انتہائی سنگین جرم ہے، جس پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا سکتی۔ اسی مقدمے میں کلدیپ سینگر کے بھائی اتل سنگھ سینگر کو بھی برابر سزا سنائی گئی تھی۔

یہ معاملہ اس وقت ایک بار پھر خبروں میں آیا جب حال ہی میں دہلی ہائی کورٹ کے ایک دوسرے بینچ نے عصمت دری کے مقدمے میں کلدیپ سینگر کو مشروط ضمانت دے دی، جس پر ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ متاثرہ اور اس کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ کر دیا۔

متاثرہ کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف نہیں ملا اور ان کی بیٹی کو زبردستی قابو میں رکھا گیا ہے، جس سے ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button