برطانوی ڈاکٹر سنگرام پاٹل کو بی جے پی کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹس پر ممبئی ایئرپورٹ پر روک لیا گیا
تحقیقات میں تعاون کے باوجود بیرون ملک روانگی سے روکنا آزادیٔ اظہار اور انصاف کے تقاضوں پر سوالیہ نشان
ممبئی 19۔جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)برطانوی شہری اور این ایچ ایس کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر سنگرام پاٹل کو ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس وقت روک لیا گیا جب وہ برطانیہ واپس روانہ ہو رہے تھے، جبکہ حکام کے مطابق یہ کارروائی ان کے خلاف جاری لوک آؤٹ سرکلر کے تحت کی گئی۔
ڈاکٹر پاٹل رواں ماہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بھارت آئے تھے۔ 10 جنوری کو ممبئی پولیس نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے سلسلے میں انہیں پوچھ گچھ کے لیے روکا۔ کرائم برانچ نے واضح کیا کہ یہ کارروائی گرفتاری نہیں تھی بلکہ صرف تفتیش تک محدود رہی۔ اسی روز اور پھر 16 جنوری کو ڈاکٹر پاٹل نے ممبئی کرائم برانچ کے سامنے پیش ہو کر تحریری بیان بھی جمع کرایا۔
ڈاکٹر پاٹل نے تفتیشی افسران کو آگاہ کیا تھا کہ وہ 19 جنوری کی صبح برطانیہ واپس روانہ ہوں گے اور انہیں بتایا گیا تھا کہ روانگی سے قبل لوک آؤٹ سرکلر واپس لے لیا جائے گا۔ تاہم 19 جنوری کی صبح جب وہ لندن جانے والی پرواز کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تو امیگریشن کاؤنٹر پر انہیں مطلع کیا گیا کہ ان کے خلاف لوک آؤٹ سرکلر فعال ہے، جس کے باعث ان کی روانگی روک دی گئی۔
یہ معاملہ ممبئی کرائم برانچ کے سائبر کرائم ونگ میں زیر تفتیش ہے اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی قانون کے تحت درج مقدمے کی بنیاد پر لوک آؤٹ سرکلر جاری کیا گیا۔ شکایت کے مطابق 14 دسمبر کو فیس بک پر شائع ہونے والی بعض پوسٹس کو توہین آمیز، گمراہ کن اور نفرت انگیز قرار دیا گیا، جن میں قومی رہنماؤں اور ایک سیاسی جماعت کے خلاف قابل اعتراض زبان استعمال ہونے کا الزام ہے۔
ڈاکٹر پاٹل کے بیرون ملک سفر پر پابندی کے بعد یہ معاملہ سیاسی حلقوں میں بھی زیر بحث آ گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں تعاون کے باوجود سفر سے روکنا قانونی طریقۂ کار اور آزادیٔ اظہار سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے، جبکہ حکام کے مطابق معاملہ تفتیش کے مراحل میں ہے اور قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔



