سرورققومی خبریں

مدھیہ پردیش کی بھوج شالہ پر بسنت پنچمی–جمعہ تنازع، سپریم کورٹ میں فوری سماعت کی درخواست

سنت پنچمی اور جمعہ ایک ہی دن ہونے سے تنازع کے خدشات بڑھ گئے

نئی دہلی 19۔جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع تاریخی بھوج شالہ سے جڑا مذہبی و انتظامی تنازع ایک بار پھر سپریم کورٹ آف انڈیا تک جا پہنچا ہے۔ اس مرتبہ تنازع کی بنیاد یہ ہے کہ بسنت پنچمی 23 جنوری کو جمعہ کے دن واقع ہو رہی ہے، جبکہ بھوج شالہ احاطے میں ہر جمعہ کو نماز جمعہ ادا کی جاتی ہے۔

اس معاملے میں ہندو فرنٹ فار جسٹس نامی تنظیم نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ 23 جنوری کو بھوج شالہ احاطے میں جمعہ کی نماز پر پابندی عائد کی جائے اور اس دن صرف ہندوؤں کو سرسوتی پوجا کی اجازت دی جائے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی دن پوجا اور نماز ہونے کی صورت میں امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل وشنو شنکر جین نے عدالت کو بتایا کہ عرضی میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا اور ریاستی حکومت بسنت پنچمی کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کو یقینی بنائیں، تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم یا کشیدگی سے بچا جا سکے۔ وقت کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کیس کی فوری سماعت کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

ہندو فریق کا مؤقف ہے کہ بھوج شالہ احاطے میں واگ دیوی کا قدیم مندر موجود ہے، جس کی تعمیر گیارہویں صدی میں پرمار حکمرانوں کے دور میں ہوئی۔ ان کے مطابق تاریخی طور پر اس مقام پر ہندو پوجا ارچنا کرتے آئے ہیں۔ درخواست میں 7 اپریل 2003 کے اس حکم کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت ہندوؤں کو ہر منگل اور بسنت پنچمی کے دن پوجا کی اجازت دی گئی، جبکہ مسلم کمیونٹی کو ہر جمعہ دوپہر ایک سے تین بجے تک نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

تاہم عرضی میں اس نکتے کو خاص طور پر اٹھایا گیا ہے کہ اے ایس آئی کا یہ حکم اس صورتحال پر خاموش ہے، جب بسنت پنچمی جمعہ کے دن آ جائے۔ ہندو فریق کا کہنا ہے کہ 23 جنوری کو دونوں مذہبی سرگرمیوں کا ایک ساتھ ہونا تنازع کی کیفیت پیدا کر سکتا ہے، اسی لیے عدالت عظمیٰ کی مداخلت ضروری ہے۔

مسلم کمیونٹی نے بھوج شالہ چوکی پر اے ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کو ایک میمورنڈم پیش کیا، جس میں 23 جنوری کو دوپہر 1 بجے سے 3 بجے تک نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی۔ مسلم کمیونٹی نے میمورنڈم میں کہا کہ اس مدت کے دوران جمعہ کی نماز بلا تعطل اور قانونی طریقے سے ادا کی جانی چاہیے۔

اس سے پہلے، 2016 میں، بسنت پنچمی جمعہ کے دن پڑی تھی، جس نے بھوج شالہ میں نماز اور نماز کے وقت پر تنازعہ کو جنم دیا تھا، جس کے نتیجے میں مقامی احتجاج اور جھڑپیں ہوئیں۔ ہندو برادری بھوج شالا کو واگ دیوی (سرسوتی دیوی) کے لیے وقف ایک مندر مانتی ہے، جبکہ مسلم برادری اسے کمال مولا مسجد کہتی ہے۔7 اپریل 2003 کو جاری کردہ ASI کے حکم کے مطابق، ہندوؤں کو ہر منگل کو بھوج شالہ میں عبادت کرنے کی اجازت ہے، جب کہ مسلمان وہاں ہر جمعہ کو نماز پڑھ سکتے ہیں۔
یہ انتظام گزشتہ 23 سالوں سے جاری ہے۔واضح رہے کہ بھوج شالہ، جو دھار میں واقع ہے، ماضی میں بھی متعدد بار قانونی اور مذہبی تنازعات کا مرکز رہا ہے۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں کہ وہ اس حساس معاملے میں کیا ہدایات جاری کرتی ہے، تاکہ مدھیہ پردیش میں امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button