پرتیک یادو کا اہلیہ اپرنا یادو سے طلاق لینے کا اعلان، سوشل میڈیا پوسٹ پر تنازع
"اس نے میرے خاندانی رشتے برباد کر دیے"
نئی دہلی 19۔جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سماج وادی پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعلیٰ اتر پردیش مرحوم ملائم سنگھ یادو کے خاندان میں ایک بار پھر تنازع سامنے آیا ہے۔ اس مرتبہ یہ معاملہ ان کے چھوٹے بیٹے پرتیک یادو اور ان کی اہلیہ، بی جے پی سے وابستہ رہنما اپرنا یادو سے متعلق ہے۔
پرتیک یادو نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں اعلان کیا کہ وہ اپنی اہلیہ اپرنا یادو سے طلاق لینے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی اہلیہ کی وجہ سے ان کے خاندانی تعلقات شدید متاثر ہوئے ہیں اور ازدواجی زندگی ذہنی اذیت کا سبب بن گئی ہے۔
اپنے بیان میں پرتیک یادو نے کہا کہ وہ اس وقت شدید ذہنی دباؤ اور خراب ذہنی حالت سے گزر رہے ہیں، لیکن ان کی اہلیہ نے کبھی ان کی حالت پر توجہ نہیں دی۔ ان کے مطابق اپرنا یادو ہمیشہ ذاتی مفادات، شہرت اور اثر و رسوخ کو ترجیح دیتی رہیں، جس کے باعث گھریلو رشتوں میں دراڑ پیدا ہوئی۔
پرتیک یادو نے مزید کہا کہ وہ جلد قانونی طور پر طلاق کے عمل کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ بھی استعمال کیے۔
یہ بیان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا، جس کے بعد سیاسی اور صحافتی حلقوں میں اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی۔
معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب اپرنا یادو کے بھائی امن بشت نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ پرتیک یادو کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرتیک یادو اس نوعیت کی زبان استعمال نہیں کرتے اور اکاؤنٹ تک رسائی میں مسائل کے باعث پوسٹس ہٹائی بھی نہیں جا سکیں۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں شکایت بھی درج کرائی گئی ہے۔
خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی جانچ جاری ہے اور حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
واضح رہے کہ پرتیک یادو اور اپرنا یادو کی شادی دو ہزار گیارہ میں ہوئی تھی اور اس شادی سے ان کے دو بچے ہیں۔ پرتیک یادو مرحوم ملائم سنگھ یادو اور ان کی دوسری اہلیہ سادھنا گپتا کے بیٹے ہیں جبکہ وہ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کے سوتیلے بھائی بھی ہیں۔
پرتیک یادو پیشے کے اعتبار سے جائیداد کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور فٹنس کے شوقین مانے جاتے ہیں۔ وہ عملی سیاست سے ہمیشہ دور رہے ہیں، جبکہ اپرنا یادو سیاست اور سماجی سرگرمیوں میں سرگرم رہی ہیں اور اس وقت اتر پردیش خواتین کمیشن کی نائب چیئرپرسن کے عہدے پر فائز ہیں۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ معاملہ واقعی ازدواجی اختلافات کا نتیجہ ہے یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک ہونے کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے، جس کی حقیقت تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔



