پولینڈ میں 80 سال پرانا جنگی خزانہ برآمد، خاندان کی ٹوٹی ہوئی میراث مٹی سے نکل آئی
80 سال بعد دوسری جنگ عظیم کا دفن شدہ خزانہ برآمد,دادا کی یادگار، ہوتے کے ہاتھ لگی
پولینڈ 29۔جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)خزانے اکثر کہانیوں اور افسانوں میں سننے کو ملتے ہیں، لیکن پولینڈ کے 69 سالہ جان گلیزوسکی کے لیے یہ ایک حقیقت بن گئی۔ اس نے اپنے والد کی جانب سے تیار کیے گئے ایک پرانے نقشے پر یقین کیا اور یوکرین اور پولینڈ کی سرحد کے قریب ایک مقام پر کھدائی کا فیصلہ کیا۔ چند ہی لمحوں میں مٹی کے نیچے دبی تاریخ نے خود کو آشکار کر دیا۔
یہ خزانہ دوسری جنگ عظیم کے زمانے کا ہے، جسے جان کے دادا ایڈم گلیزوسکی نے 1939 میں سوویت فوج کے خطرے کے باعث اپنی حویلی چھوڑتے وقت زمین میں دفن کر دیا تھا۔ اس خزانے میں سونے کے سکے، چاندی کے قیمتی برتن اور زیورات شامل تھے، جنہیں اس نے اپنی جان بچانے کے لیے چھپا دیا۔
جنگ کے بعد حویلی کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی، لیکن خزانہ زمین کے نیچے محفوظ رہا۔ جان کے والد گستاو گلیزوسکی نے اپنے والد کے چھوڑے گئے نشانات کی بنیاد پر ایک نقشہ تیار کیا اور زندگی بھر اسے سنبھال کر رکھا۔ ان کی وفات کے بعد یہ نقشہ جان کے ہاتھ آیا۔
برسوں بعد، جان نے اس نقشے پر بھروسہ کرتے ہوئے کھدائی شروع کی۔ ابتدا میں کوئی کامیابی نہ ہوئی، مگر کچھ گہرائی تک پہنچتے ہی سونے کے سکے اور چاندی کے برتن سامنے آ گئے۔ ماہرین کے مطابق انیسویں اور بیسویں صدی کے یہ سکے بین الاقوامی مارکیٹ میں آج لاکھوں ڈالر کی مالیت رکھتے ہیں۔
یہ دریافت محض مالی دولت نہیں بلکہ یادوں، ورثے اور تاریخ کی علامت ہے۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ جنگ کے زخم اور کہانیاں نسلوں تک زندہ رہتی ہیں، اور بعض اوقات 80 سال بعد بھی مٹی کے نیچے سے سچائی سامنے آ جاتی ہے۔



