بین الاقوامی خبریںسرورق

ٹرمپ جنگ شروع کر سکتے ہیں مگر انجام قابو سے باہر ہو سکتا ہے: ایرانی اسپیکر

اگر جنگ ہوئی تو نتائج سنگین ہوں گے، امریکہ کو سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا

تہران :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم یہ بات چیت سنجیدہ، حقیقی اور باہمی احترام پر مبنی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دباؤ، دھمکیوں اور احکامات کو مذاکرات نہیں کہا جا سکتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے قالیباف نے کہا کہ انہیں اس بات پر یقین نہیں کہ ٹرمپ حقیقی مذاکرات کے خواہاں ہیں، کیونکہ ان کی پالیسی دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنے پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ جنگ تو شروع کر سکتے ہیں، مگر نہ وہ اس پر قابو پا سکیں گے اور نہ ہی اس کا انجام ان کے اختیار میں ہوگا۔

قالیباف نے یہ باتیں امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے ماحول میں مذاکرات ہمیشہ کشیدگی کو مزید بڑھاتے ہیں، اس لیے سفارت کاری صرف اسی وقت مؤثر ہو سکتی ہے جب وہ خلوص نیت، احترام اور ٹھوس ضمانتوں کے ساتھ کی جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایرانی عوام کے معاشی مفادات کی ضمانت نہیں دی جاتی، اس وقت تک کسی بھی قسم کے مذاکرات کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ قالیباف کے مطابق ایران ایسے کسی عمل کو قبول نہیں کرے گا جس میں بات چیت کے نام پر صرف احکامات دیے جائیں۔

نوبل امن انعام کے حوالے سے ایک سوال پر ایرانی اسپیکر نے کہا کہ اگر ٹرمپ واقعی امن کے خواہاں ہیں تو انہیں اپنے اردگرد موجود جنگ کے حامی عناصر سے فاصلہ اختیار کرنا ہوگا، کیونکہ امن دھمکیوں سے نہیں بلکہ اعتماد سازی سے حاصل ہوتا ہے۔

ایران میں حالیہ ہلاکتوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے قالیباف نے دعویٰ کیا کہ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ایک منظم منصوبہ بیرون ملک تیار کیا گیا تھا، جس کے پیچھے غیر ملکی عناصر سرگرم تھے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ان واقعات کے ذمہ داران کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔

قالیباف نے خبردار کیا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران شہید ہونے والے تقریباً تین سو سکیورٹی اہلکاروں کے خون کا حساب لیا جائے گا اور حکومت اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ملک میں موجود کچھ معاشی مسائل بدانتظامی کا نتیجہ ہو سکتے ہیں، مگر مجموعی طور پر ان بحرانوں کی بنیادی وجہ امریکی پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والا دباؤ ہے۔

خطے میں امریکی افواج کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر بات کرتے ہوئے قالیباف نے واشنگٹن کو سخت پیغام دیا کہ اگر ایران پر کوئی حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں ہزاروں امریکی فوجی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ شروع کرنے کی طاقت شاید کسی کے پاس ہو، مگر اس جنگ کا انجام طے کرنا کسی کے بس میں نہیں۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور ایران و امریکہ کے تعلقات ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں ایک غلط فیصلہ پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button