
دہلی فسادات کیس میں عدالت نے فیضان کو بری کر دیا
دہلی فسادات سے جڑے مقدمے میں فیضان بے قصور
نئی دہلی۔ 31 جنوری: (اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی فسادات 2020 سے متعلق ایک اہم مقدمے میں دارالحکومت دہلی کی ایک عدالت نے آتش زنی اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار ملزم فیضان عرف آریان کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
یہ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے سنایا۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے 25 فروری 2020 کو برج پوری روڈ پر واقع ارون ماڈرن پبلک سینئر سیکنڈری اسکول میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگانے والی مشتعل بھیڑ کا حصہ تھا۔
استغاثہ کے مطابق تقریباً دو سو افراد پر مشتمل ایک ہجوم نے زبردستی اسکول میں داخل ہو کر املاک اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور بعد ازاں عمارت کو نذرِ آتش کر دیا، جس سے ایک کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔
عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ ملزم کے خلاف پورا مقدمہ صرف ایک پولیس اہلکار کی گواہی پر منحصر تھا۔ عدالت کے مطابق اس گواہ نے اپنے بیانات میں سنگین تضادات پیش کیے، جن کی کوئی معقول وضاحت استغاثہ کی جانب سے فراہم نہیں کی گئی۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مقدمے میں ایف آئی آر درج کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی، جبکہ جائے وقوعہ پر موجود دیگر پولیس اہلکاروں کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا، جو تفتیشی عمل پر سوالیہ نشان ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے حالات میں واحد گواہ کی گواہی پر بھروسہ کرنا غیر محفوظ ہوگا، اس لیے ملزم کو شک کا فائدہ دینا ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں ابتدا میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سے دو شریک ملزمان کو فروری 2025 میں بری کر دیا گیا تھا۔ فیضان کو 2022 میں مفرور قرار دیا گیا تھا اور بعد ازاں اگست 2025 میں گرفتار کر کے اس کے خلاف علیحدہ مقدمہ چلایا گیا۔
تمام شواہد اور دلائل کا بغور جائزہ لینے کے بعد عدالت نے ملزم فیضان عرف آریان کو آتش زنی اور ہنگامہ آرائی سمیت تمام الزامات سے بری کر دیا۔دہلی فسادات 2020 سے متعلق ایک اہم مقدمے میں دارالحکومت دہلی کی ایک عدالت نے آتش زنی اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار ملزم فیضان عرف آریان کو بری کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
یہ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے سنایا۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے 25 فروری 2020 کو برج پوری روڈ پر واقع ارون ماڈرن پبلک سینئر سیکنڈری اسکول میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگانے والی مشتعل بھیڑ کا حصہ تھا۔
استغاثہ کے مطابق تقریباً دو سو افراد پر مشتمل ایک ہجوم نے زبردستی اسکول میں داخل ہو کر املاک اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا اور بعد ازاں عمارت کو نذرِ آتش کر دیا، جس سے ایک کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔
عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ ملزم کے خلاف پورا مقدمہ صرف ایک پولیس اہلکار کی گواہی پر منحصر تھا۔ عدالت کے مطابق اس گواہ نے اپنے بیانات میں سنگین تضادات پیش کیے، جن کی کوئی معقول وضاحت استغاثہ کی جانب سے فراہم نہیں کی گئی۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مقدمے میں ایف آئی آر درج کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہوئی، جبکہ جائے وقوعہ پر موجود دیگر پولیس اہلکاروں کو بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا، جو تفتیشی عمل پر سوالیہ نشان ہے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے حالات میں واحد گواہ کی گواہی پر بھروسہ کرنا غیر محفوظ ہوگا، اس لیے ملزم کو شک کا فائدہ دینا ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں ابتدا میں تین افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سے دو شریک ملزمان کو فروری 2025 میں بری کر دیا گیا تھا۔ فیضان کو 2022 میں مفرور قرار دیا گیا تھا اور بعد ازاں اگست 2025 میں گرفتار کر کے اس کے خلاف علیحدہ مقدمہ چلایا گیا۔
تمام شواہد اور دلائل کا بغور جائزہ لینے کے بعد عدالت نے ملزم فیضان عرف آریان کو آتش زنی اور ہنگامہ آرائی سمیت تمام الزامات سے بری کر دیا۔



