سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

مجربات رحیمی-ضعف باہ کیلئے مجربات

✍️حضرت ڈاکٹر صاحب

ضعف باہ کی شکایت تو انسان کو ہر زمانہ میں رہی ہے، لیکن اس دور میں یہ شکایت عام ہوگئی ہے۔ اکثر نوجوان بے راہ روی کے شکار ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آج کا دور فحاشی اور عریانیت کی وجہ سے “سیکس” کا دور ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ایسے نازک دور میں نوجوانوں کو تربیت دینا اور شہوانی جذبات کے نقصان اور مضرت سے آگاہی دینا ضروری ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں مخلوط تعلیم نے ماحول کو مزید پراگندہ کردیا ہے۔

والد محترم مولانا حکیم محمد ادریس حبان رحیمی کا اصول ہے کہ وہ نوجوان مریضوں کو دوا دیتے ہیں اور صحت و پاکیزگی اور نوجوانی کی حفاظت کے لیے ضروری نصیحتیں اور تاکید بھی فرماتے ہیں۔ ذیل میں رحیمی شفاخانہ بنگلور کے معمولات میں سے کچھ مخصوص فارمولے قارئین کرام کے لیے پیش خدمت ہیں، فائدہ اٹھا کر دعاؤں سے نوازیں۔

مقوی نسخے

  • اونٹنی کا دودھ بقدر ہضم بیس روز تک پیتے رہیں تو اس سے قوت پیدا ہوجاتی ہے۔
  • جماع سے آٹھ گھنٹہ پہلے پنیر شتر مایۂ اعرابی بقدر دانہ نخود 30 گرام عرق گلاب میں حل کر کے پی لیں تو تقویت کے لیے نہایت مفید ہے۔
  • بیج اوٹنگن 10 گرام انگور کے رس کے ساتھ کھانا مقوی ہے۔
  • گاجر کا مربہ شہد میں بنا کر کھانا مقوی ہے۔
  • انڈے کی زردی گھی میں بھون کر اس میں سونٹھ ایک ماشہ سفوف بنا کر ملا کر کھانا بہترین مقوی ہے۔
  • پان کی جڑ 5 گرام کا سفوف ہمراہ دودھ کھائیں، مقوی ہے۔
  • ثعلب مصری 5 گرام ہمراہ شہد پیس کر کھانا مفید ہے۔
  • سونٹھ 30 گرام، پیلی 10 گرام، شہد کے ساتھ معجون بنا کر گرم پانی سے کھانا مفید ہے۔
  • کچلہ مدبر نصف چاول بالائی میں ملا کر اوپر سے دودھ پی لیں، بہترین مقوی اعصاب ہے۔
  • مغز بادام و چرونجی بوقت صبح ہمراہ دودھ استعمال کریں۔

اونٹ کٹارا کی جڑ 10 گرام پوٹلی باندھ کر ڈیڑھ کلو دودھ میں جوش دیں۔ اس میں ایک لیٹر پانی اور چار عدد چھوہارے بھی ڈال دیں۔ جب پانی خشک ہوجائے اور دودھ باقی رہ جائے تو آگ سے اتار کر پی لیں، کمزوری کے لیے مفید ہے۔

مرغی کا انڈہ ایک عدد توڑ کر اس کی زردی اور سفیدی کسی برتن میں ڈالیں۔ پھر پیاز کا پانی، ادرک کا پانی، گاجر کا پانی اور گھی گائے انڈے کے برابر لے کر سب کو پھینٹ کر حلوا بنا دیں۔ یہ حلوا ہر روز تیار کر کے کھانے سے قوت میں اچھا اضافہ ہوتا ہے۔

لاجونتی بوٹی کے پتے 3 گرام… (کشتہ چاندی کی ترکیب) بے حد مقوی و اعضائے رئیسہ ہے۔

گائے یا بھینس کا دودھ یا مکھن، دودھ معہ دال ماش، بادام کا حلوہ، گھی اور شہد، ناریل کا مغز، چلغوزہ، چھوہارے، چرونجی، بادام، زردی بیضۂ مرغ، ثعلب مصری، شقاقل مصری، موصلی، بہمن، کستوری، موتی، کیسیر وغیرہ حسب ضرورت استعمال مفید ہے۔

مغز بیج کوسنج، اسگندھ ناگوری، تال مکھانہ، شقاقل مصری ہر ایک 50 گرام — سفوف بنا کر 5 گرام صبح و شام نیم گرم دودھ کے ساتھ۔

کشتۂ مخصوص

کشتہ سونا ایک گرام، مشک خالص 10 گرام، کشتہ چاندی 15 گرام، زعفران کشمیری 20 گرام، چھوٹی الائچی 25 گرام، جائفل 30 گرام، طباشیر 30 گرام، جاوتری 40 گرام۔

ترکیب: زعفران و مشک کے سوا سب ادویہ کا سفوف بنائیں۔ زعفران کو دودھ بکری میں کھرل کریں، پھر مشک ملا کر دیگر ادویہ شامل کریں اور مونگ کے برابر گولیاں بنائیں۔

خوراک: ایک گولی صبح و شام بالائی کے ساتھ، اوپر سے شہد ملا دودھ۔

فوائد: اعصابی کمزوری، دل، دماغ، جگر اور معدہ کو طاقت دیتا ہے، مثانہ کو مضبوط کرتا ہے۔

احتلام کے مریضوں کے لیے ہدایات

  • عضو پر لیپ یا طلا استعمال نہ کریں۔
  • صبح چار بجے کے بعد دوبارہ نہ سوئیں۔
  • پیٹھ کے بل نہ سوئیں، کروٹ لے کر سوئیں۔
  • قبض نہ ہونے دیں۔
  • ہلکی ورزش اور سیر روزانہ کریں۔
  • جماع کی قطعی ممانعت ہے۔
  • سادہ اور زود ہضم غذا کھائیں۔
  • لنگوٹ باندھ کر سونا بعض اوقات مفید ہوتا ہے۔

نوٹ: احتلام مکمل ختم ہونا ممکن نہیں۔

غذا و پرہیز

غذا میں زود ہضم اور ٹھنڈی غذائیں: خرفہ، پالک، کدو، ترئی، ٹنڈا، دال مونگ، چپاتی۔ گھی، دودھ، مکھن شامل کریں۔

پرہیز: چائے، کافی، انڈا، گوشت، مچھلی، شراب، گرم مصالحہ، بیکری آئٹم، چاٹ، پکوڑے، گول گپے۔

یہ مضمون صرف رہنمائی اور معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ کسی بھی نسخہ، دوا یا کشتہ کے استعمال سے پہلے مستند طبیب یا مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ خود علاج بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button