بین الاقوامی خبریںسرورق

ٹرمپ کا حماس سے فوری غیر مسلح ہونے کا مطالبہ، پیس کونسل پر عالمی بحث تیز

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ 19 فروری کو واشنگٹن میں ایک اہم اجلاس ہوگا

واشنگٹن 16 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور مکمل طور پر اسلحہ چھوڑ دے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ نئی قائم کی گئی ’’کونسل آف پیس‘‘ لامحدود صلاحیتوں کی حامل ہے اور اس کا مقصد غزہ میں تنازع کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔ صدر کے مطابق گزشتہ اکتوبر میں پیش کیے گئے منصوبے کو عالمی سطح پر حمایت حاصل ہوئی اور اس کے بعد انسانی امداد کی ترسیل میں تیزی آئی جبکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو بھی ممکن بنایا گیا۔

ٹرمپ نے اعلان کیا کہ 19 فروری کو واشنگٹن میں ایک اہم اجلاس ہوگا جہاں پیس کونسل کے رکن ممالک غزہ کی تعمیر نو اور انسانی امداد کے لیے پانچ ارب امریکی ڈالر سے زائد امداد کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس اور مقامی پولیس کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ صدر نے زور دے کر کہا کہ حماس کا غیر مسلح ہونا اس پورے عمل کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ پیس کونسل کے بارے میں اس کے تحفظات بدستور موجود ہیں۔ یورپی خارجہ پالیسی کے ترجمان انور العنونی کے مطابق کونسل کے دائرہ کار، طرز حکمرانی اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے مطابقت پر کئی سوالات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین امریکہ کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے بشرطیکہ کونسل ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آگے بڑھے۔

ابتدا میں اس کونسل کو غزہ میں جنگ بندی کے ایک طریقہ کار کے طور پر دیکھا گیا تھا، تاہم بعد میں اس کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ بعض مبصرین کے مطابق یہ اقدام عالمی سطح پر نئے سفارتی ڈھانچے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یورپ سمیت کئی اتحادی ممالک نے اس خدشے کے تحت کونسل میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کر سکتی ہے۔

غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ بدستور نافذ ہے، تاہم معاہدے کے دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنا بنیادی نکتہ ہے۔ اس مرحلے میں اسرائیلی فوج کے تدریجی انخلا اور بین الاقوامی فورس کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ حماس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ اسرائیلی موجودگی کے دوران اسلحہ چھوڑنا اس کے لیے قابل قبول نہیں، البتہ اسلحہ کی نمائش نہ کرنے کی تجویز پر بات چیت کی گنجائش ظاہر کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button