دلچسپ خبریںسرورق

فروری میں صرف 28 دن کیوں ہوتے ہیں؟

ہزاروں سال پرانی رومن تاریخ اور روایات

نئی دہلی 16 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) فروری کا مہینہ دیگر مہینوں کے مقابلے میں سب سے چھوٹا کیوں ہے؟ یہ سوال اکثر لوگوں کے ذہن میں آتا ہے۔ عام خیال کے برعکس اس کی وجہ کوئی سائنسی اصول نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی رومن تاریخ اور روایات ہیں، جن کے اثرات آج بھی عالمی کیلنڈر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

تاریخی ماہرین کے مطابق ابتدائی رومن کیلنڈر چاند کی گردش پر مبنی تھا۔ اس دور میں مہینوں کو چاند کے چکر کے حساب سے ترتیب دیا جاتا تھا، اس لیے زیادہ تر مہینے 29 یا 31 دن کے ہوتے تھے۔ ابتدا میں رومن سال میں صرف دس مہینے شمار کیے جاتے تھے، مارچ سے دسمبر تک۔ سردیوں کے دنوں کو باقاعدہ کیلنڈر کا حصہ نہیں سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس عرصے میں زراعت اور اہم سرگرمیاں محدود ہوتی تھیں۔

بعد میں رومن بادشاہ نوما پومپیلیئس نے سال کو منظم شکل دینے کا فیصلہ کیا اور جنوری اور فروری کے دو نئے مہینے شامل کیے۔ اس طرح سال بارہ مہینوں پر مشتمل ہو گیا۔ تاہم ایک مسئلہ پیدا ہوا کیونکہ رومن معاشرے میں طاق اعداد کو خوش قسمت اور جفت اعداد کو منحوس سمجھا جاتا تھا۔ مہینوں کو متوازن رکھنے کے لیے ایک مہینہ کم کرنا ضروری سمجھا گیا اور اس مقصد کے لیے فروری کا انتخاب کیا گیا، جو پہلے ہی مذہبی طور پر مرنے والوں کی رسومات سے منسوب سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اسے جان بوجھ کر مختصر رکھا گیا اور 28 دن مقرر کیے گئے۔

بعد ازاں جولیس سیزر نے سورج کی گردش پر مبنی جولین کیلنڈر متعارف کرایا۔ اگرچہ کیلنڈر میں بڑی اصلاحات ہوئیں، لیکن فروری کی طوالت برقرار رہی۔ ہر چار سال بعد ایک اضافی دن شامل کر کے لیپ ائیر کا نظام بنایا گیا، جس سے بعض برسوں میں فروری 29 دن کا ہو جاتا ہے۔ سن 1582 میں پوپ گریگوری سیزدہم نے مزید اصلاحات کے بعد گریگورین کیلنڈر نافذ کیا، جو آج دنیا کے بیشتر ممالک میں رائج ہے، لیکن اس کے باوجود فروری سب سے مختصر مہینہ ہی رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فروری کے 28 دن دراصل قدیم رومن فیصلوں، مذہبی عقائد اور تاریخی روایت کا نتیجہ ہیں، نہ کہ کسی سائنسی مجبوری کا۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال پرانا یہ نظام آج بھی جدید دنیا کے کیلنڈر میں جوں کا توں موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button