بین الاقوامی خبریں

امریکہ کی تمام بالغ آبادی یکم مئی سے ویکسین لگوانے کی اہل ہوگی، صدر بائیڈن

ٹرمپامریکی صدر جو بائیڈن کا پہلا براہ راست خطاب

واشنگٹن: (ایجنسیاں)امریکی صدر جو بائیڈن نےامریکہ کی پچاس ریاستوں کی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ یکم مئی تک ملک کی تمام بالغ آبادی کرونا ویکسین حاصل کرنے کی اہل ہوگی۔ صدر بائیڈن اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد جمعرات کی رات پہلی مرتبہ امریکی قوم سے براہ راست خطاب کر رہے تھے۔

تاہم، ان کا کہنا تھا کہ اس کے یہ مطلب نہیں ہیں کہ سب کو فوری طور پر ویکسین مہیا ہو گی، بلکہ اس کے معنی ہیں کہ یکم مئی سے ہر شہری قطار میں شامل ہونے کا اہل ہوگا۔ اس سے قبل تمام امریکی ریاستوں میں شہری اپنی عمر یا پیشے کے اعتبار سے مختلف ترجیحی درجوں میں تقسیم تھے ۔صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف ہے کہ اس سال چار جولائی کو امریکہ کے یومِ آزادی کے موقع پر، محدود تعداد میں اجتماع کی اجازت دی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ چار جولائی تک، خاصا امکان ہے کہ لوگ اپنے خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ اپنے گھر کے باغیچے یا محلے میں مل جل کر امریکہ کا یوم آزادی مناسکیں گے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ لوگ بڑی تعداد میں اکٹھے ہو سکیں گے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ ایک طویل اور صبر آزما سال کے بعد، لوگ چھوٹے گروپوں میں اکٹھا ہو سکیں، تا کہ نہ صرف بطور قوم امریکہ کی آزادی کا دن منایا جا سکے بلکہ "ہم اس وائرس سے نجات کا جشن بھی منانے کے قابل ہوں”۔

صدر بائیڈن کے امریکی عوام سے خطاب سے قبل، ان کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ ویکسین دینے کی مہم میں مدد کے لیے مزید چار ہزار فوجیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے، جس سے ویکسین کی ترسیل کے کام پر تعینات ہونے والے کل امریکی فوجیوں کی تعداد چھ ہزار ہو جائے گی۔

عہدیداروں کے مطابق، دانتوں کے ڈاکٹر، طبی معاون، ڈاکٹروں کے معاون، مویشیوں کے ڈاکٹر اور طبی اور صحت عامہ کے شعبے کے طالب علم بھی بطور ویکسینٹر کام کر سکیں گے یا ویکسین دینے کے کام میں حصہ لے سکیں گے۔امریکہ میں گزشتہ سال مارچ سن دوہزار بیس کے بعد، کرونا وائرس کی وجہ سے معیشت کی رفتار سست ہو گئی تھی،

جو امریکہ کے لیے 1918 میں پھیلنے والی سپینش فلو کی وبا کے بعد سب سے بڑا صحت کا بحران تھا۔صدر بائیڈن نے اپنے پیش رو امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے وائرس سے نمٹنے کے لئے اختیار کی گئی ابتدائی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وائرس سے پھیلنے والی وبا کی سنگینی کا کئی مہینوں تک انکار کیا جاتا رہا۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بعد میں وبا کے خلاف تحقیق اور ویکسین کی پیداوار میں تیزی پیدا کی تھی، جس کی بدولت آج ویکسین میسر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button