بین الاقوامی خبریں

نیپال: ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد کرفیو جاری

نماز کے دوران موسیقی بجانے پر دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی

کھٹمنڈو فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) نیپال کے نیپال کے صوبہ مدھیش کے ضلع روتاہاٹ میں ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ انتظامیہ نے بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر گوڑ میونسپلٹی کے حساس علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ضلع روتاہاٹ کی گوڑ میونسپلٹی کے سنگڑھ گاؤں میں پیش آیا، جہاں جمعرات کی رات شادی کی ایک تقریب کے دوران گانے بجانے کو لے کر معمولی تنازعہ شروع ہوا۔ مقامی ذرائع کے مطابق قریبی مسجد میں رات کی نماز کے دوران موسیقی بجانے پر دونوں فریقوں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی، جو بعد میں مبینہ جسمانی تصادم میں بدل گئی۔

جمعہ کی صبح ایک بار پھر دونوں جانب سے پتھراؤ کی اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ بعض مقامات پر توڑ پھوڑ اور آگ زنی کے واقعات بھی پیش آئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بدامنی قریبی علاقوں تک پھیلنے لگی تھی، جس کے بعد سخت اقدامات ناگزیر ہو گئے۔

ضلع انتظامیہ روتاہاٹ کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے گوڑ-6 کے کچھ علاقوں میں اگلے حکم تک کرفیو نافذ رہے گا۔ پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے، جلوس نکالنے، ریلی، دھرنا، نعرے بازی اور دیگر اجتماعی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور حساس مقامات پر گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و سکون برقرار رکھنے میں تعاون کریں، افواہوں پر کان نہ دھریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔ علاقے میں حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button