مختصر معلومات متحدہ امریکہ –✍️خواجہ رحیم الدین، نیو یارک
امریکہ سوپر پاور ترقی یافتہ ملک ہے،
آج امریکہ سوپر پاور ترقی یافتہ ملک ہے، یہاں ہر ملک ہر ذات کے باشندے رہتے ہیں، اپنی اپنی بولی بولتے ہیں اور خوشگوار زندگی گزارتے ہیں۔ ماہ جولائی عوام کیلئے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ 4 جولائی آزادی کا دن ہے، عام طور پر یہ ملک بھر میں تعطیل کا دن ہوتا ہے۔ اس دن آتشبازی کی جاتی ہے۔ میلے لگتے ہیں، پسندیدہ کھیل بیس بال کھیلتے ہیں، موسیقی ریز پروگرام ہوتے ہیں۔ اس طرح یہاں کی تاریخ کے اس مخصوص دن کو یادگار بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جاتی۔ اس دن کی خاص علامت پرچم ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں سرفہرست ملک ہمارا امریکہ ہے۔ 260 برس قبل ایک حقیقت بن کر ابھرا اور دنیا کے ایک عظیم ملک کی حیثیت سے کھڑا ہے۔ 4 جولائی سے یہاں کے ہم باشندے کبھی مڑ کر نہیں دیکھے۔ تعمیر نو میں اس قدر مصروف ہیں کہ اس کو دنیا کا ایک طاقتور ملک اور دنیا کی مستحکم جمہوریت کہا جاتاہے، یہ ملک بے شمار قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے، اس لئے ہم باشندوں کو آج اپنے ملک پر بے انتہا فخر ہے اور بلا لحاظ مذہب اس کی تعریف ہے۔
میں ان افراد میں شامل ہوں جن کو ہر سال تقریباً تین مرتبہ امریکہ جانا آنا بچوں سے ملنا ہوتا ہے۔ یہاں کے عوام کی مہمان نوازی، گرمجوشی اور خوشحالی کافی متاثر کن ہے، کسی کو اجنبی ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ ہاں کار چلانا اور ہائی وے پر جانا ضروری ہوتا ہے۔ جو یہاں کم از کم دس سال تک قیام کرتا ہے، وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتا۔ آپ سے گزارش ہے مصروفیت اور وقت اجازت دے تو ضرور سفر کرنے کی کوشش کیجئے۔ جن ملک میں رہتے اس ملک کا وفادار ہونا۔
4 جولائی موسم گرما میں آرہی ہے۔ خوشی میں امریکی پکنک مناتے ہیں، گھروں سے باہر نکلتے ہیں، رشتہ دار دوست احباب، بوائے فرینڈ، گرل فرینڈ ہوٹلوں میں نظر آئیں گے۔ ہر ملک کی ہوٹل ہر مزہ یہاں مل جائے گا۔ یہاں صفائی کا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ مکھی مچھر تو نظر نہیں آتے۔ پولیس دن اور رات مصروف رہتی۔ کار لائسنس کہیں اور طرف کا ہو بھی تو یہاں کا ضروری ہے۔ یہاں ایک سال کے اندر زبان سیکھ لیتے ہیں، اپنی کوشش پر۔ ہلو ہائے ساری ضروری ہے۔ کار ہارن بجانے کی کوشش نہیں کرنا ورنہ سامنے والا شرمندہ ہوجائے گا۔
ہر مال (دوکان) میں صحیح سامان لینا اور صحیح طور پر برابر پیسے دینا کم زیادہ کا سوال ہی نہیں۔ کوئی کبھی راستے میں پیدل چل رہا ہو تو اپنی کار کی رفتار کم کرلینا یا روک بھی لینا۔ پیدل چلنے والوں اور عورتوں کی زیادہ اہمیت ہے۔ کتوں کو بہت احتیاط سے اور صاف ستھرا رکھتے ہیں، ان کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ چہل قدمی بھی کرتے ہیں ہاضمہ کیلئے۔ مال میں کتوں کی غذا ایسا معلوم ہوتا ہے، انسانوں کی غذا سے بہتر ہے۔ اس لئے انگریزی پڑھنا لکھنا ضروری ہے۔ وہاں ہر شئے کا نام لکھا رہتا ہے، یہ حلال ہے یا نہیں وغیرہ۔
مال میں یا گھر میں اپنے بچوں کو مارنا یا ستانا جرم ہے ورنہ پولیس آئے گی اور کہے گی آپ بچوں کی پرورش صحیح نہیں کرسکتے، ہم لے کر جائیں گے۔ اسکول میں طالب علم کو فون نمبر دیا جاتا ہے۔ ماں باپ کے ظلم کرنے کی صورت میں فون کردیتا۔ جب موسم کے لحاظ سے برف زیادہ یا کم ہو نکلنا ہوتا ہے تب بھی پولیس، ڈاکٹر اور اہم عہدیدار برابر ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ سڑکوں سے جلد از جلد موٹر برف کو بازو کردیتے اور خاص نمک چھڑک دیتے ہیں۔ یہاں کے باشندے بہت محنت کرتے ہیں۔ اگر پکوان والی آتی ہو تو وہ ماہانہ ایک لاکھ روپئے ضرور کما لیتی ہے۔ یہاں چند اسٹیٹ ایسے ہیں جہاں برف گرتی ہی نہیں جیسے فلوریڈا وغیرہ۔
موسم کے لحاظ سے کپڑے پہنتے ہیں اور دوکان (مال) میں بھی موسم کے لحاظ سے مال رکھتے ہیں۔ مرد یا عورت موسم کا ضرور خیال رکھتے ہیں۔ گرمی میں عورتوں کو چھوٹے لباس ضروری ہے۔ یہاں غلط اسناد لے کر تعلیم کے بہانے آنے کی کوشش نہ کریں۔ احتیاط ضروری ہے۔ یہاں خاص ڈاکٹرس اور اہم کام کرنے والے تقریباً بارہ چودہ گھنٹے روز کام کرلیتے ہیں۔ بچہ جب اٹھارہ سال مکمل کرلیتا ہے تو وہ اپنے آپ آزاد ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو خود سنبھال لینے کے قابل ہوجاتا ہے۔ ماں باپ کی نگرانی سے دور ہوجاتا ہے۔ دوسرے ممالک کے بندے یہاں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں۔



