تلنگانہ کی خبریںسرورق

دو دہائیوں بعد عائشہ میراں قتل کیس کا اختتام، سی بی آئی تحقیقات بے نتیجہ ثابت

27 فبروری کو باقیات کی تدفین ‘عدالت کا حکم

حیدرآباد 21 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بی فارمیسی کی طالبہ عائشہ میراں کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وجئے واڑہ کی سی بی آئی عدالت نے تقریباً دو دہائیوں سے جاری قانونی جدوجہد کا خاتمہ کرتے ہوئے کیس کو باضابطہ طور پر بند کرنے کے احکام جاری کردیئے۔

سی بی آئی عدالت کی مجسٹریٹ اناپورنا نے جمعہ کی شام حتمی رپورٹ کو منظور کرتے ہوئے کیس بند کرنے کا حکم سنایا۔ عائشہ میراں کو 27 دسمبر 2007ء کی رات ابراہیم پٹنم میں واقع خواتین کے ہاسٹل میں قتل کیا گیا تھا، جس سے ریاست بھر میں سنسنی پھیل گئی تھی۔

ابتدائی تحقیقات میں پولیس نے ستیم بابو کو ملزم قرار دے کر سزا دلوائی تھی، تاہم 2017ء میں آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے بری کردیا۔ بعد ازاں مقتولہ کی والدہ نے کیس کی ازسرنو تحقیقات کی درخواست دی، جس پر حکومت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔ تقریباً 11 ماہ کی جانچ کے بعد ٹیم نے عدالت کو بتایا کہ نچلی عدالت میں پیش کیے گئے اہم شواہد ضائع ہوچکے ہیں۔

اس کے بعد 2019ء میں ہائی کورٹ نے کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے سپرد کردی تھیں۔ سی بی آئی نے چھ سال تک تحقیقات جاری رکھیں اور اکتوبر 2025ء میں اپنی جانچ مکمل کی۔ اس دوران پولیس عہدیداروں سے پوچھ تاچھ کی گئی، مقتولہ کے اعضاء دوبارہ حاصل کرکے دوسرا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور دستیاب شواہد کو یکجا کیا گیا۔

سی بی آئی نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا کہ ماضی میں جمع کیے گئے شواہد ستیم بابو کی جانب اشارہ کرتے تھے، لیکن چونکہ ہائی کورٹ انہیں پہلے ہی مسترد کرچکی تھی اور طویل عرصہ گزر جانے کے باعث کوئی نیا مضبوط ثبوت دستیاب نہیں ہوسکا، اس لیے کیس بند کرنے کی سفارش کی گئی۔

عدالت نے کیس بند کرنے سے قبل عائشہ میراں کے والدین کی رائے بھی سنی۔ والدین نے عدالت کو مطلع کیا کہ وہ سی بی آئی رپورٹ کے خلاف کوئی درخواست یا نجی مقدمہ دائر نہیں کریں گے۔ اس کے بعد عدالت نے کیس بند کرنے کی منظوری دے دی۔

مجسٹریٹ نے متوفیہ کی باقیات والدین کے حوالے کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالت کی ہدایت کے مطابق 27 فروری کو صبح 10 بجے والدین اور تحقیقاتی عہدیدار عدالت میں حاضر ہوں گے۔ شناختی کارروائی مکمل ہونے کے بعد باقیات کو سرکاری نگرانی میں تینالی منتقل کیا جائے گا جہاں مذہبی رسومات کے مطابق آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ عدالت نے پوری کارروائی کی ویڈیو گرافی کا بھی حکم دیا ہے۔

اس فیصلے کے ساتھ عائشہ میراں قتل کیس قانونی طور پر اختتام پذیر ہوگیا، تاہم کئی سوالات اب بھی تشنہ جواب ہیں اور انصاف کے متلاشی حلقوں میں مایوسی پائی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button