عمر خالد: انصاف کا لامتناہی انتظار-✍️وینکٹ پارسا
‘‘Umar Khalid And His World’’ ایک ایسی کتاب ہے جسے ان کے مداحوں اور ساتھیوں نے شائع کیا
‘‘Umar Khalid And His World’’ ایک ایسی کتاب ہے جسے ان کے مداحوں اور ساتھیوں نے شائع کیا ہے، جو ان کے حوصلے، نظریاتی استقامت اور ہندو مسلم یکجہتی کے سیکولر اصولوں پر ان کے غیر متزلزل ایقین کا جشن مناتی ہے۔ 17 فروری 2026 کو دارالحکومت دہلی میں پریس کلب آف انڈیا میں اس کتاب کی تقریبِ اجرا عمر خالد سے اظہارِ یکجہتی کا موقع بن گئی، جو 13 ستمبر 2020 سے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں اور چھ برس سے بغیر مقدمہ چلائے نظربند ہیں۔ نہ مقدمہ، نہ ضمانت۔ انہیں باقاعدہ ملزم بھی نہیں کہا جا سکتا۔
چھ برس تک ضمانت سے انکار ایک غیر معمولی اور بے مثال صورتِ حال ہے، جس نے انصاف کے لامتناہی انتظار کو جنم دیا ہے۔ شاید یہ احساس کرتے ہوئے کہ عدالت میں عمر خالد کے خلاف کوئی مضبوط مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا، قانونی عمل کو ہی سزا میں بدل دیا گیا ہے، جو سزا سنائے جانے کے بعد دی جاتی ہے۔ گویا سزا سے پہلے ہی سزا کا عمل جاری ہے، جبکہ استغاثہ اپنے الزامات ثابت کرنے میں غیر یقینی کا شکار ہے۔
قانونی اصولوں کے مطابق ضمانت معمول ہے اور جیل استثنا۔ مگر عدالتی عمل کو الٹ کر رکھ دیا گیا ہے۔ طویل پیشگی حراست تفتیش کی غیر جانب داری اور عدالتی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھاتی ہے۔ یقیناً طویل قید ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ شاید لمبی قید ہی ضمانت دینے کی بنیاد ہونی چاہیے۔ ہائی سکیورٹی جیل میں طویل نظربندی کو نیا معمول نہیں بننا چاہیے اور نہ ہی بن سکتا ہے۔
عمر خالد نے نہ صرف جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے بلکہ وہ ایک معزز رہنما سید قاسم رسول الیاس کے فرزند بھی ہیں، جو مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ہیں۔ انہیں دہشت گردی سے جوڑنا نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ ملک کے وسیع تر عدالتی نظام پر بھی ایک افسوسناک تبصرہ ہے۔
ضمانت کے لیے جدوجہد کا سلسلہ زیریں عدالتوں سے شروع ہوا، جیسا کہ قائم شدہ طریقۂ کار کے مطابق ہوتا ہے۔ تمام قانونی راستے اختیار کرنے کے بعد معاملہ دہلی ہائی کورٹ اور پھر چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کے دور میں سپریم کورٹ تک پہنچا۔ ہر سماعت کے بعد ضمانت کی درخواست مختلف بنچ کے پاس جاتی رہی۔ لیکن 11 ماہ میں 14 بار التوا کے بعد دفاعی ٹیم کو ضمانت کی درخواست واپس لینے پر مجبور ہونا پڑا۔
بالآخر 5 جنوری 2026 کو ایک اور کوشش میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں ایک بار پھر سپریم کورٹ نے مسترد کر دیں۔ تاہم ان کے پانچ دیگر ساتھیوں—گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، محمد سلیم خان اور شاداب احمد—کو سخت شرائط کے ساتھ ضمانت دے دی گئی۔
عمر خالد کا جرم کیا ہے؟ شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف دسمبر 2019 سے فروری 2020 تک شاہین باغ میں ہونے والے جمہوری احتجاج کے دوران عمر خالد نے لوگوں سے سڑکوں پر آنے کی اپیل کی تھی۔ اس جملے کو توڑ مروڑ کر تشدد کی منظم اپیل کے طور پر پیش کیا گیا اور اسے فروری 2020 کے دہلی فسادات سے جوڑتے ہوئے عمر خالد کو ان فسادات کا سرغنہ قرار دیا گیا۔
اس کے باوجود دہلی پولیس مقدمہ چلا کر ان پر عائد الزامات ثابت کر سکتی تھی، جس سے ان کی سزا کا راستہ ہموار ہوتا۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ الزامات قابلِ سماعت ہیں، تو گزشتہ چھ برسوں میں دہلی پولیس کو مقدمے کی کارروائی شروع کرنے اور حتیٰ کہ سزا حاصل کرنے سے کوئی چیز نہیں روکتی تھی۔ لیکن سزا تو دور کی بات، ابھی تک مقدمے کی سماعت ہی شروع نہیں ہوئی۔
انہیں تہاڑ جیل کی ہائی سکیورٹی میں رکھنے کے لیے سخت گیر انسدادِ دہشت گردی قانون (UAPA)، اسلحہ ایکٹ اور تعزیراتِ ہند کی دفعات لگائی گئی ہیں، جن میں مہلک ہتھیار کے ساتھ فساد، قتل، اقدامِ قتل، مذہب کی بنیاد پر دشمنی کو فروغ دینا، غیر قانونی سرگرمیاں، دہشت گردانہ سرگرمیاں، دہشت گردی کے لیے فنڈ جمع کرنا، بغاوت اور سازش شامل ہیں۔
زیادہ تر انسدادِ دہشت گردی قوانین میں گرفتاری کی تاریخ سے مقدمہ شروع کرنے کے لیے 90 دن کی مدت مقرر ہوتی ہے، جسے بڑھا کر 180 دن تک کیا جا سکتا ہے۔ ایسے قوانین کے تحت بغیر مقدمہ اتنی طویل حراست کو سخت گیر سمجھا جاتا تھا۔ مگر عمر خالد کے معاملے میں چھ برس گزر جانے کے باوجود مقدمے کے آغاز کے کوئی آثار نظر نہیں آتے، جو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے بارے میں تمام خدشات کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
1967 میں غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (UAPA) وزیر اعظم اندرا گاندھی نے علیحدگی پسند رجحانات سے نمٹنے کے لیے متعارف کرایا، کیونکہ قومی اتحاد اور سالمیت ان کی اولین ترجیح تھی۔ پنجاب میں دہشت گردی اور پاکستان کی پشت پناہی سے نمٹنے کے لیے ٹیررسٹ اینڈ ڈسرپٹو ایکٹیویٹیز (پریوینشن) ایکٹ (TADA) وزیر اعظم راجیو گاندھی نے نافذ کیا، جو 1985 سے 1995 تک مؤثر رہا۔ TADA کے غلط استعمال کی شکایات بھی سامنے آئیں۔



