قومی خبریں

میرٹھ بلو ڈرم قتل کیس: عدالت میں بچے کے ساتھ ملزمہ کی پیشی،مقتول سوربھ کی ماں رو پڑی

"قاتلوں کو پھانسی دی جائے"، ماں عدالت میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی

میرٹھ 23 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں سنسنی خیز بلو ڈرم قتل کیس کی سماعت کے دوران جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے، جب مقتول سوربھ راجپوت کی ماں رینو دیوی عدالت میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں اور ملزمان کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

عدالت کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے جہاں اس ہولناک کیس کی سماعت ہو رہی تھی۔ مرکزی ملزمہ مسکان رستوگی اپنے مبینہ ساتھی ساحل شکلا اور چھ ماہ کی بیٹی رادھا کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئی۔ دوسری جانب کمرہ عدالت میں مقتول کی ماں رینو دیوی اور بھائی راہل بھی موجود تھے۔

جیسے ہی دونوں ملزمان عدالت میں داخل ہوئے، رینو دیوی جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور زار و قطار روتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کے قاتلوں کو پھانسی دی جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسکان کے اہل خانہ بھی اس قتل میں ملوث ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تاہم پولیس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مسکان کے والد نے خود اسے پولیس کے حوالے کیا تھا۔

سماعت کے دوران جج نے دونوں ملزمان سے الزامات کی بنیاد پر 32 سوالات کیے۔ ساحل شکلا نے اپنے دفاع میں گواہ پیش کرنے کی اجازت طلب کی، جبکہ مسکان رستوگی نے اپنے خلاف تمام الزامات سے انکار کیا۔

عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے رینو دیوی نے کہا کہ "انہوں نے میرے بیٹے کو قتل کیا، وہ ہر ماہ انہیں 50 ہزار روپے دیتا تھا، قاتلوں کو پھانسی دی جائے۔” وہ مسلسل روتے ہوئے یہی دہراتی رہیں۔

 سوربھ راجپوت اور مسکان رستوگی نے 2016 میں محبت کی شادی کی تھی۔ بیوی کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کی خواہش میں سوربھ نے مرچنٹ نیوی کی ملازمت چھوڑ دی، تاہم اس فیصلے پر خاندان میں اختلافات پیدا ہوئے اور وہ الگ رہنے لگے۔ 2019 میں ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی، لیکن بعد میں سوربھ کو مسکان اور اپنے دوست ساحل کے درمیان تعلق کا علم ہوا، جس سے ازدواجی زندگی میں کشیدگی بڑھ گئی۔

سال 2023 میں سوربھ دوبارہ مرچنٹ نیوی میں شامل ہو کر بیرون ملک چلے گئے۔ 24 فروری 2025 کو وہ اپنی بیٹی کی سالگرہ کے موقع پر گھر واپس آئے، لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے قتل کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔

پولیس کے مطابق 4 مارچ 2025 کو مسکان نے کھانے میں نشہ آور گولیاں ملا کر سوربھ کو بے ہوش کیا، جس کے بعد اس نے اور ساحل نے انہیں قتل کر کے نعش کے ٹکڑے کیے اور تقریباً 15 حصوں میں تقسیم کر کے ایک ڈرم میں بند کر کے سیمنٹ سے بھر دیا۔ بعد میں نعش کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ تھا۔

یہ کیس اپنی بے رحمی اور سفاکیت کی وجہ سے پورے ملک میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہوا ہے، جبکہ عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button