قومی خبریں

پاکستان میں مذہب تبدیل کرنے پر کوئی جبر نہیں، سربجیت کور کا سکھ یاتریوں کو دعوتی پیغام

پاکستان میں مذہب کی تبدیلی مکمل طور پر ذاتی فیصلہ ہے، کسی پر کوئی دباؤ نہیں

نئی دہلی 23 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پاکستان میں اسلام قبول کرنے والی بھارتی خاتون سربجیت کور نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کسی کو بھی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مکمل طور پر انفرادی پسند اور آزاد مرضی کا معاملہ ہے۔

پنجاب کے کپورتھلہ سے تعلق رکھنے والی 48 سالہ سربجیت کور نومبر 2025 میں گرو نانک دیو جی کے 556 ویں یوم پیدائش کے موقع پر ننکانہ صاحب یاترا کے لیے پاکستان آئی تھیں۔ دیگر یاتریوں کے واپس جانے کے بعد وہ پاکستان میں ہی رک گئیں، جہاں بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام نور حسین یا نور فاطمہ رکھ لیا۔

سربجیت کور نے بتایا کہ ان کا ایک پاکستانی شہری کے ساتھ گزشتہ آٹھ برس سے تعلق تھا اور وہ اپنی بقیہ زندگی اسی کے ساتھ پاکستان میں گزارنا چاہتی ہیں۔ فروری 2026 میں ویزے کی مدت ختم ہونے کے باعث انہیں لاہور کے دارالامان میں رکھا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔

اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے پنجاب، بھارت کے سکھ عقیدت مندوں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے تاریخی گوردواروں اور مذہبی مقامات کا دورہ بلا خوف و خطر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سکھ اور اسلامی نعروں کے ساتھ اپنے پیغام کا آغاز کیا اور مذہبی ہم آہنگی پر زور دیا۔

اس واقعے کے بعد شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے یاترا سے متعلق قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے اکیلی خواتین یاتریوں کے لیے خصوصی ضمانت لازمی قرار دی ہے، جس کی تصدیق متعدد افراد سے کرانا ضروری ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button