شر میں بھی خیر: وسیم رضوی کا متنازعہ اقدام اور اس کے نتائج
احساس نایاب ( شیموگہ،کرناٹک )
شر میں بھی خیر: وسیم رضوی کا متنازعہ اقدام اور اس کے نتائج
بیشک! میرا رب سب جانتا ہے اور اُسی کے اختیار میں ہے ہر شر میں خیر کے پہلو رکھنا۔
وسیم رضوی اور اسلام مخالف سرگرمیاں
وسیم رضوی ایک طویل عرصے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے، اشتعال انگیزی پھیلانے اور ملک میں فتنہ و فساد برپا کرنے کی کوششوں میں مصروف رہا ہے۔ اس نے کئی بار مذہبی عقائد پر حملہ کیا، صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کی شان میں گستاخی کی اور مدارس کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے۔ مگر اس بار اس نے ایک ایسا قدم اٹھایا جو خود اس کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوا۔
قرآن پاک کی 26 آیات کو منسوخ کرنے کی عرضی
وسیم رضوی نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کرکے قرآن پاک کی 26 آیات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ قدم مسلمانوں کے لیے نہ صرف ناقابل قبول تھا بلکہ اس نے خود اپنے لیے بھی توبہ کے تمام دروازے بند کر دیے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی کتاب پر انگلی اٹھا کر، اس نے اپنی ذلت اور بربادی کا خود انتظام کر لیا۔
سماجی بائیکاٹ اور قانونی کاروائی کا مطالبہ
اس گستاخی کے بعد، مسلمانوں نے متحد ہو کر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ نہ صرف سنی اور شیعہ مسلمان ایک پلیٹ فارم پر آگئے، بلکہ مختلف مکاتب فکر کے علما نے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں، ریلیاں نکالی جا رہی ہیں اور اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہیں۔
شیعہ عالم دین مولانا کلب جواد نے اعلان کیا کہ دہلی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد شیعہ اور سنی مل کر ایک عظیم الشان احتجاج کریں گے، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وسیم رضوی کو سخت ترین سزا دی جائے۔
قرآن پاک کی حفاظت: اللہ کا وعدہ
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔” (سورہ الحجر: 9)
یہی وجہ ہے کہ ساڑھے چودہ سو سال میں بے شمار دشمنان اسلام نے کوششیں کیں، لیکن کوئی بھی قرآن کی ایک زیر زبر کو بھی تبدیل نہ کر سکا۔ اللہ نے اس کتاب کو نہ صرف کاغذ پر محفوظ رکھا، بلکہ لاکھوں حفاظ کے سینوں میں اسے محفوظ کر دیا ہے۔
حکومت سے مطالبات
احتجاجی مظاہروں میں مسلمانوں نے درج ذیل مطالبات کیے:
- وسیم رضوی کو فوراً گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے۔
- حکومت اگر اس کے خلاف کارروائی نہیں کرتی، تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ بھی اس کے ساتھ شریک ہے۔
- اس کو کسی بھی مسلم ادارے میں عہدہ نہ دیا جائے۔
- اس کے سماجی بائیکاٹ کا اعلان کیا جائے اور کوئی مسلمان اس سے تعلق نہ رکھے۔
- اسے کسی مسلم قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔
نتیجہ: شر میں بھی خیر
یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے ایک چیلنج تھا، لیکن اس کے نتیجے میں ایک خیر کا پہلو یہ نکلا کہ تمام مسالک کے مسلمان ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوگئے۔ اس ملعون کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے، اور یہ واقعہ تاریخ میں اس کی بدترین ناکامی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔



