
یوپی مدارس میں بڑا ردوبدل، کامل و فاضل کورس ختم، 2016 کا تنخواہ بل بھی واپس
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مدرسہ تعلیم کے نظام میں ترمیم، 2016 کا تنخواہ بل بھی قانون سازی کے عمل سے خارج
لکھنؤ، 6 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں)اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے ریاست کے مدرسہ تعلیمی نظام میں دو بڑے فیصلے کرتے ہوئے ایک طرف مدارس سے کامل اور فاضل کے کورس ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ دوسری جانب سماجوادی پارٹی کے دور میں منظور ہونے والا مدرسہ تنخواہ بل 2016 بھی باضابطہ طور پر واپس لے لیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دونوں فیصلے آئینی تقاضوں، عدالتی احکامات اور موجودہ تعلیمی ضابطوں کے مطابق کیے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی زیر صدارت منعقدہ کابینہ اجلاس میں مدرسہ ایجوکیشن کونسل ایکٹ 2004 میں ترمیم کی منظوری دی گئی، جس کے بعد مدارس میں کامل (گریجویشن کے مساوی) اور فاضل (پوسٹ گریجویشن کے مساوی) کورسز نہیں چلائے جائیں گے۔ اب مدرسہ طلبہ عالم کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اگر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہیں گے تو انہیں یونیورسٹیوں یا دیگر تسلیم شدہ تعلیمی اداروں میں داخلہ لینا ہوگا۔
ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور دانش انصاری نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نئے تعلیمی سیشن سے کامل اور فاضل کورسز میں داخلہ پہلے ہی بند کر دیا گیا تھا، جبکہ اب قانون میں ترمیم کے ذریعے ان کورسز کو مستقل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے جاری ہونے والی کامل اور فاضل کی ڈگریاں بدستور مؤثر رہیں گی اور ان کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے والے افراد یا پہلے سے داخلہ لینے والے طلبہ کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔
یہ تبدیلی سپریم کورٹ کے 5 نومبر 2024 کے فیصلے کے بعد سامنے آئی، جس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ مدرسہ بورڈ اعلیٰ تعلیم کے مساوی ڈگریاں جاری کرنے کا مجاز نہیں کیونکہ کامل اور فاضل کو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کی منظوری حاصل نہیں۔ تاہم عدالت نے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے آئینی وجود کو برقرار رکھا تھا اور حکومت کو متعلقہ قوانین میں ضروری تبدیلیاں کرنے کی اجازت دی تھی۔
اسی کابینہ اجلاس میں حکومت نے اتر پردیش مدرسہ (اساتذہ اور دیگر ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی) بل 2016 کو بھی واپس لینے کا فیصلہ کیا، جو تقریباً ایک دہائی سے منظوری کا منتظر تھا۔ یہ بل سماجوادی پارٹی حکومت نے مدارس کے اساتذہ اور ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کے مقصد سے منظور کرایا تھا، تاہم گورنر اور بعد ازاں مرکزی حکومت نے اس کی متعدد دفعات پر آئینی اور قانونی اعتراضات عائد کیے تھے۔
بل میں ایک متنازع شق یہ بھی تھی کہ اگر مدارس کے ملازمین کو وقت پر تنخواہ نہ دی جائے تو متعلقہ افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کی جا سکے گی۔ قانونی ماہرین نے اس شق کو انتظامی اختیارات اور آئینی اصولوں سے متصادم قرار دیا تھا، جس کے باعث یہ بل کبھی قانون کی شکل اختیار نہ کر سکا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جب کسی بل کو آئینی منظوری حاصل نہ ہو اور وہ نافذ ہی نہ ہو سکے تو اسے زیر التوا رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ مدارس میں کی جانے والی یہ تبدیلیاں ریاست کے تعلیمی نظام کو قومی معیار، قانونی تقاضوں اور عدالتی فیصلوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ اس کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے نظام میں یکسانیت، شفافیت اور قانونی وضاحت کو یقینی بنایا جائے گا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتر پردیش میں اس وقت تقریباً 25 ہزار مدارس موجود ہیں، جن میں سے قریب 16 ہزار مدارس مدرسہ ایجوکیشن کونسل سے منظور شدہ ہیں، جبکہ تقریباً 8 ہزار 500 مدارس اب بھی منظوری کے منتظر ہیں۔ حکومت کے حالیہ فیصلوں سے ریاست کے مدرسہ تعلیمی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی متوقع ہے، جس کے اثرات آنے والے تعلیمی سیشن سے واضح طور پر سامنے آئیں گے۔



