دلچسپ خبریںسرورق

چین نے ایئرکنڈیشنر کے بغیر گھر ٹھنڈا رکھنے والا سپر کولنگ پینٹ بنا لیا

چین میں سپر کولنگ پینٹ کا تجربہ، دیوار کا درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہوگیا

بیجنگ، 21 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) چین میں سائنسدانوں نے ایسی جدید سپر کولنگ کوٹنگ تیار کی ہے جو شدید گرمی کے موسم میں عمارتوں کے اندر درجہ حرارت کم رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روایتی ایئرکنڈیشننگ سسٹم کی طرح بجلی استعمال کیے بغیر عمارت کی سطح پر پڑنے والی شمسی حرارت کو کم کرنے کے اصول پر کام کرتی ہے۔

چینی ماہرین کے مطابق اس خصوصی پینٹ میں ریڈی ایٹیو کولنگ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے، جس کے ذریعے سورج سے آنے والی توانائی کا بڑا حصہ واپس منعکس کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے عمارت کی بیرونی سطح زیادہ گرم ہونے سے بچ سکتی ہے اور اندرونی حصوں میں منتقل ہونے والی حرارت کو کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اس کوٹنگ کی حقیقی ماحول میں تقریباً چھ ماہ تک چین کے صوبہ ہینان میں ایک صنعتی پلانٹ پر آزمائش کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اس مقام پر پہلے اندرونی درجہ حرارت کو کم رکھنے کے لیے پانی کے اسپرے کے نظام استعمال کیے جاتے تھے، تاہم سپر کولنگ کوٹنگ کے استعمال کے بعد اضافی کولنگ توانائی کے بغیر بھی درجہ حرارت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کو رہائشی عمارتوں کے علاوہ فیکٹریوں، عوامی عمارتوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مقصد خاص طور پر گرم علاقوں میں عمارتوں پر پڑنے والی شمسی حرارت کو کم کرکے کولنگ کی ضرورت اور توانائی کے استعمال میں کمی لانا ہے۔

یہ سپر کولنگ پینٹ چائنا کنسٹرکشن ایکو ڈویلپمنٹ کمپنی اور ہربن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ متعلقہ رپورٹ کے مطابق اس کوٹنگ کی صنعتی سطح پر پیداوار بھی شروع کردی گئی ہے اور سالانہ تقریباً 6 لاکھ ٹن پیداوار کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ریڈی ایٹیو کولنگ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی سطح پر پڑنے والی شمسی توانائی کو زیادہ سے زیادہ واپس منعکس کیا جائے اور سطح سے حرارت کو ایسے طریقے سے خارج کیا جائے کہ وہ دوبارہ عمارت کے اندر منتقل نہ ہو۔ اسی وجہ سے اس قسم کی کوٹنگ شدید گرمی کے دوران عمارتوں کے درجہ حرارت کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس پینٹ کی اوسط متوقع عمر تقریباً 15 سال ہوسکتی ہے۔ اگر بڑے پیمانے پر اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے تو گرم موسم میں عمارتوں کی کولنگ کے لیے بجلی کی طلب کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کا حقیقی فائدہ مقامی موسم، عمارت کے ڈیزائن، پینٹ کی تنصیب اور دیگر عوامل پر منحصر ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button