
نئی دہلی، 21 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے دوران سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، سابق نائب صدر جگدیپ دھنکڑ اور الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو سمیت کئی اہم شخصیات کو ووٹر ریکارڈ میں موجود تضادات کی بنیاد پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
انتخابی حکام کے مطابق دہلی میں تقریباً 97 لاکھ سے زائد ووٹرز پر مشتمل مسودہ انتخابی فہرست جاری کیے جانے کے بعد 33.13 لاکھ ووٹرز کو ان کے انتخابی اندراج سے متعلق معلومات میں تضاد کے حوالے سے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسے معاملات کی ہے جہاں موجودہ ووٹر تفصیلات کو 2002 کی آخری SIR فہرست میں موجود ریکارڈ سے منسلک نہیں کیا جا سکا۔
الیکشن حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی ووٹر کو نوٹس جاری کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا نام انتخابی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ ووٹر کو اپنی وضاحت پیش کرنے اور مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے کا موقع دیا جا رہا ہے، جس کے بعد ریکارڈ کی جانچ کی جائے گی۔
سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی، ان کی بیٹی پرتیبھا اور بہو گیتیکا کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ان کے نام 2002 کی SIR فہرست کے ساتھ میپ نہیں ہو سکے، جبکہ اڈوانی کے بیٹے جینت کا ریکارڈ میپنگ کے عمل میں درست پایا گیا۔ اڈوانی خاندان کے مذکورہ افراد نئی دہلی اسمبلی حلقے کے ووٹر ہیں۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور ان کی اہلیہ کیوکو جے شنکر کو بھی نوٹس موصول ہوئے ہیں۔ دونوں کے ووٹر ریکارڈ نئی دہلی اسمبلی حلقے کے علاقے سنیہری باغ سے متعلق ہیں اور نوٹس میں ان کے اندراج کو گزشتہ SIR ریکارڈ سے منسلک نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سابق نائب صدر جگدیپ دھنکڑ اور ان کی اہلیہ سودیش کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے ووٹر ریکارڈ میں نائب صدر کی رہائش گاہ کا پتہ درج ہے۔
الیکشن کمشنر ایس ایس سندھو کے معاملے میں ان کے نام میں موجود عدم مطابقت کی بنیاد پر نوٹس جاری کیا گیا، جبکہ ان کے بیٹے دامن بیر کو والدین کے نام سے متعلق تضاد کے حوالے سے نوٹس دیا گیا۔ دونوں دہلی کینٹ اسمبلی حلقے کے ووٹر ہیں۔
نئی دہلی اسمبلی حلقے کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کے دفتر نے بعد میں واضح کیا کہ ایس ایس سندھو کی انتخابی تفصیلات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کی جانچ کے بعد ان کا نام حتمی انتخابی فہرست میں شامل کرنے کے لیے رکھا گیا ہے۔
فارن سیکریٹری وکرم مصری کا نام بھی ان ووٹرز میں شامل ہے جنہیں SIR کے دوران نوٹس جاری کیا گیا۔ ان کے معاملے میں بھی موجودہ انتخابی تفصیلات کو گزشتہ SIR ریکارڈ سے منسلک نہ ہونے کی وجہ بتائی گئی ہے۔
سابق دہلی نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا، ان کی اہلیہ سیما اور بیٹے میر کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق سسودیا کے نوٹس میں وجہ واضح طور پر درج نہیں کی گئی، جبکہ ان کے بیٹے میر کے معاملے میں والدین کے نام سے متعلق تضاد اور اہلیہ سیما کے معاملے میں ان کے اپنے نام میں عدم مطابقت کی نشاندہی کی گئی ہے۔
راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کپل سبل اور ان کی اہلیہ کو بھی ’’گزشتہ SIR سے میپ نہ ہونے‘‘ کے زمرے میں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ کپل سبل نے انتخابی نظرثانی کے عمل پر اعتراض کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور SIR کو ووٹوں کے اخراج سے تعبیر کیا۔
دہلی چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے تاہم کہا ہے کہ یہ نوٹس سسٹم کے ذریعے ان ووٹرز کو جاری کیے جا رہے ہیں جن کے انتخابی ریکارڈ اور SIR کے دوران جمع کرائی گئی معلومات میں منطقی یا دستاویزی تضاد پایا گیا ہے۔ دفتر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ صرف نوٹس جاری ہونے سے ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے خارج ہو جاتا ہے۔
انتخابی حکام کے مطابق کسی بھی ووٹر کا نام انتخابی فہرست سے خارج کرنے سے پہلے اسے اپنا موقف پیش کرنے اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کا مکمل موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کی جانب سے باقاعدہ فیصلہ کیا جائے گا، جس کے خلاف مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت اپیل بھی کی جا سکتی ہے۔
اس فہرست میں سابق جے این یو وائس چانسلر ایم جگدیش کمار، سابق دہلی لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، سابق نیتی آیوگ نائب چیئرمین اروند پناگڑیا، سیبی چیئرمین توہین کانتا پانڈے، سابق آرمی چیف اپیندر دویدی اور سی بی آئی ڈائریکٹر پروین سود سمیت دیگر اہم شخصیات کے نام بھی شامل ہیں۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل کو بھی ووٹر تفصیلات میں تضاد کے حوالے سے نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق ریکھا گپتا کے معاملے میں دستاویزات کی جانچ کے بعد ان کی تفصیلات کی تصدیق کر دی گئی ہے اور ان کا نام حتمی انتخابی فہرست میں شامل کرنے کے لیے رکھا گیا ہے۔
سابق ماہر معاشیات اور وزیراعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کے سابق چیئرمین ببیک دیب رائے کا نام بھی نوٹس حاصل کرنے والے ووٹرز کی فہرست میں شامل تھا۔ دیب رائے نومبر 2024 میں انتقال کر چکے ہیں۔ ایک سینئر انتخابی افسر نے بتایا کہ حکام ان کے انتقال سے واقف ہیں اور ان کا نام حتمی انتخابی فہرست میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
دہلی کے انتخابی حکام کے مطابق نوٹس جاری کرنے کی بنیادی وجہ ووٹرز کی جانب سے SIR کے دوران جمع کرائے گئے فارم میں موجود معلومات اور سابقہ انتخابی ریکارڈ کے درمیان پائے جانے والے تضادات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر معاملے کی الگ سے جانچ کی جا رہی ہے اور دستاویزات کی بنیاد پر ریکارڈ کو درست کیا جا رہا ہے۔
نوٹس حاصل کرنے والے ووٹرز متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر یا بوتھ لیول آفیسر کے سامنے اپنا جواب اور ضروری دستاویزات جمع کرا سکتے ہیں۔
دہلی میں SIR کے تحت دعووں اور اعتراضات کا مرحلہ 30 ستمبر کو مکمل ہوگا، جبکہ نوٹس حاصل کرنے والے ووٹرز کو اپنے جوابات اور متعلقہ دستاویزات 29 اکتوبر تک جمع کرانے ہوں گے۔ انتخابی حکام کے مطابق حتمی انتخابی فہرست 4 نومبر کو جاری کی جائے گی۔



