بین الاقوامی خبریںسرورق

ملائیشیا میں ملازمت کے لیے ویزا فری داخلے سے گریز کریں، بھارتی شہریوں کو ہائی کمیشن کا مشورہ

کوالالمپور، 22 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) ملائیشیا میں ملازمت کی تلاش کے لیے 30 روزہ ویزا فری داخلے کی سہولت استعمال کرنے والے بھارتی شہریوں کو بھارتی ہائی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ یہ سہولت روزگار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

کوالالمپور میں بھارتی ہائی کمیشن نے منگل 22 ستمبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک ایڈوائزری میں کہا کہ حالیہ عرصے کے دوران ایسے بھارتی شہریوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو ملازمت کے جھوٹے وعدوں پر ایجنٹوں کے ذریعے ملائیشیا پہنچ رہے ہیں۔

ہائی کمیشن کے مطابق بعض غیر ذمہ دار ایجنٹس افراد کو ملازمت دلانے کا جھانسہ دے کر سیاحتی یا ویزا فری سہولت کے تحت ملائیشیا بھیجتے ہیں۔ایسے افراد کو ویزا مدت ختم ہونے کے بعد قیام، غیر قانونی حیثیت، استحصال، حراست اور قانونی کارروائی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بھارتی ہائی کمیشن نے واضح کیا کہ بھارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو ملائیشیا میں 30 دن تک ویزا فری قیام کی سہولت بنیادی طور پر سیاحت اور سماجی ملاقاتوں کے لیے دی جاتی ہے۔ اس سہولت کے تحت ملازمت اختیار کرنا ملائیشیا کے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔

ہائی کمیشن نے حقیقی سیاحوں کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ ملائیشیا روانگی سے قبل ضروری دستاویزات مکمل رکھیں۔ ان میں واپسی کا تصدیق شدہ ٹکٹ، ہوٹل کی بکنگ، ملائیشیا ڈیجیٹل ارائیول کارڈ (MDAC) کی آن لائن جمع کرائی گئی تفصیلات اور کم از کم چھ ماہ کی مدت والا پاسپورٹ شامل ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ MDAC آمد سے تین دن قبل آن لائن جمع کرانا ضروری ہے تاکہ ملائیشیا پہنچنے پر امیگریشن سے متعلق مشکلات سے بچا جا سکے۔

بھارتی ہائی کمیشن نے شہریوں کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ وہ ملازمت کے مقصد سے ملائیشیا کا سفر اس وقت تک نہ کریں جب تک ان کے پاس باقاعدہ ورک پرمٹ یا ویزا ود ریفرنس (VDR) موجود نہ ہو۔

ہائی کمیشن نے بھارتی شہریوں پر زور دیا کہ وہ غیر مصدقہ ایجنٹس کے ملازمت سے متعلق دعوؤں پر اعتماد کرنے کے بجائے ملائیشیا کے متعلقہ امیگریشن تقاضوں کی پابندی کریں، کیونکہ غیر قانونی طریقے سے ملازمت حاصل کرنے کی کوشش سنگین قانونی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button