قومی خبریں

سلیم ڈولا کی گرفتاری کے بعد حاجی سلیم کا نیٹ ورک محتاط، جنوبی بھارت میں منشیات اسمگلنگ کے راستے تبدیل

نئی دہلی، 22 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سلیم ڈولا کی گرفتاری اور بھارت حوالگی کے بعد حاجی سلیم سے منسلک مبینہ منشیات نیٹ ورک نے جنوبی ریاستوں میں اپنی سرگرمیوں کا انداز بدل دیا ہے۔ سکیورٹی اور انٹیلی جنس حکام کے مطابق نیٹ ورک اب بڑے پیمانے پر کھیپ بھیجنے کے بجائے نسبتاً چھوٹی مقدار میں منشیات منتقل کرنے اور ایسے ساحلی راستوں کا استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں نگرانی نسبتاً کم ہو۔

حکام کے مطابق سلیم ڈولا کی گرفتاری نے داؤد ابراہیم سے منسلک مبینہ نیٹ ورک کی بین الاقوامی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔ اس کا اثر حاجی سلیم کے جنوبی ریاستوں سے متعلق آپریشنز پر بھی پڑا ہے، جس کے بعد نیٹ ورک نے اپنے طریقہ کار میں تبدیلی کی ہے۔

ایک انٹیلی جنس عہدیدار کے مطابق پہلے جن راستوں سے ہزاروں کلوگرام تک کی بڑی کھیپ منتقل کیے جانے کی اطلاعات تھیں، وہاں اب مقدار نمایاں طور پر کم کردی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ چھوٹی کھیپ کے ذریعے نگرانی اور کارروائی کے خطرے کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تمل ناڈو میں ویدارنیام اور ناگاپٹنم کے ساحلی علاقوں پر بھی حکام کی توجہ ہے۔ ان علاقوں کا جغرافیہ اور مقامی سمندری ٹریفک اسمگلروں کے لیے پیچیدگیاں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نگرانی سے بچنے کے مواقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔ حکام کے مطابق چھوٹی کشتیوں کے ذریعے منشیات منتقل کرنے کی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ کھیپ کا حجم پہلے کے مقابلے میں کم بتایا جاتا ہے۔

رامیشورم، آبنائے پالک اور تھوتھوکڈی کے بیرونی ساحلی علاقے بھی ان راستوں میں شامل بتائے جاتے ہیں جن پر متعلقہ ادارے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق بعض مقامات پر مقامی ماہی گیری سے منسلک سمندری سرگرمیوں کی آڑ میں منشیات کی نقل و حرکت کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

کیرالا میں بھی مختلف مقامات پر منشیات کی بڑی کھیپ پکڑے جانے کے بعد نیٹ ورک نے اپنے راستوں میں تبدیلی کی ہے۔ حکام کے مطابق تھرواننت پورم کے قریب ویزنجام کے بیرونی سمندری علاقے میں پہلے کارروائیوں کی اطلاعات زیادہ تھیں، تاہم وہاں متعدد کارروائیوں کے بعد اس راستے کا استعمال کم ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔

اس کے بجائے کوچین کے دیہی ساحلی پانیوں، شمالی کیرالا کے کاسرگوڈ اور ملاپورم کے ساحلی علاقوں کو استعمال کرنے کی اطلاعات ہیں۔ حکام کے مطابق ان علاقوں میں نگرانی کی نوعیت مختلف ہونے کی وجہ سے اسمگلنگ نیٹ ورک نئے راستوں کو آزما سکتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان راستوں سے آنے والی منشیات بنیادی طور پر کیرالا، گوا اور کرناٹک کی مارکیٹ تک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ہونے والی متعدد کارروائیوں اور منشیات کی کھیپ پکڑے جانے سے حاجی سلیم سے منسلک نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً دو سال قبل یہ نیٹ ورک جنوبی بھارت کے علاوہ ماریشس، مالدیپ اور سری لنکا تک پھیلے مبینہ آپریشنز میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس نیٹ ورک کی سپلائی چین میں ایران، افغانستان، ملائیشیا اور سری لنکا جیسے ممالک بھی شامل رہے ہیں۔ مبینہ طور پر ایران سے شروع ہونے والی کھیپ افغانستان اور ملائیشیا کے راستے سری لنکا پہنچتی تھی، جہاں سے اسے سمندری راستوں کے ذریعے بھارت، مالدیپ اور ماریشس کی مارکیٹوں تک منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

سلیم ڈولا کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ ایران سے متعلق بدلتی صورتحال نے بھی مبینہ نیٹ ورک کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ تاہم سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ کارروائیوں اور گرفتاریوں کے باوجود ایسے گروہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کے لیے نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

حکام کے مطابق جنوبی ساحلی علاقوں میں کم نگرانی والے مقامات کی تلاش اور چھوٹی کھیپ کے ذریعے نقل و حرکت اسی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتی ہے۔ متعلقہ ادارے تمل ناڈو اور کیرالا سمیت جنوبی ساحلی علاقوں میں سمندری نقل و حرکت اور مشتبہ کھیپ پر نگرانی بڑھا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button