
فیس بک پر نبی کریم ﷺ کے بارے میں پوسٹ، سعودی عرب میں سری لنکن شہری کو سزائے موت
سری لنکن صدر نے شاہ سلمان سے معافی کی اپیل کا فیصلہ کرلیا
کولمبو، 23 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز) سعودی عرب میں سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ سے متعلق مبینہ توہین آمیز مواد کے مقدمے میں سری لنکا کے شہری سیواراسا انوجن کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد سری لنکن حکومت نے انہیں معافی دلانے کے لیے اعلیٰ سطح پر قانونی اور سفارتی کوششیں شروع کردی ہیں۔ صدر انورا کمارا دسانائیکے نے سعودی فرمانروا سے باضابطہ طور پر رحم کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سیواراسا انوجن کا تعلق سری لنکا کے مشرقی صوبے کے نرپٹیمونائی علاقے سے بتایا جاتا ہے۔ وہ روزگار کے سلسلے میں گزشتہ سال سعودی عرب گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے خلاف مقدمہ فیس بک پر شائع کیے گئے ایسے مواد کے بعد قائم کیا گیا جسے سعودی حکام نے اسلام اور پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی توہین سے متعلق قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر مذہبی بحث کے دوران انوجن کی جانب سے مبینہ طور پر ایک تصویر اور تبصرہ پوسٹ کیا گیا تھا۔ انوجن نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے مذکورہ مواد تقریباً دس منٹ کے اندر حذف کردیا تھا۔ ان کے دفاع کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ پوسٹ ایک آن لائن بحث کے دوران کی گئی اور ان کا مقصد اسلام یا پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین کرنا نہیں تھا۔
سعودی عرب کی الاحساء فوجداری عدالت نے ابتدائی طور پر انوجن کو ملک کے انسداد سائبر کرائم قانون کے تحت پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ان پر 30 لاکھ سعودی ریال جرمانہ بھی عائد کیا گیا جبکہ متعلقہ الیکٹرانک ڈیوائس ضبط کرنے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
بعد ازاں انوجن کی جانب سے سزا میں کمی کے لیے اپیل دائر کی گئی، جبکہ سعودی استغاثہ نے بھی ابتدائی فیصلے کے خلاف الگ اپیل کرتے ہوئے معاملے کو شرعی قانون کے تحت دیکھنے کی درخواست کی۔ سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ کے مطابق اپیل عدالت نے استغاثہ کی درخواست قبول کرتے ہوئے الزام کو پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی توہین سے متعلق جرم قرار دیا اور سزائے موت سنادی۔
وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے 22 ستمبر کو سری لنکن پارلیمنٹ میں بتایا کہ حکومت اس معاملے میں سعودی اور سری لنکن قانونی ماہرین سے مشاورت کررہی ہے اور سعودی عرب میں دستیاب مزید قانونی راستوں کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سری لنکن حکومت انوجن کے مقدمے کے سلسلے میں سعودی عرب میں ہونے والے قانونی اخراجات برداشت کرے گی، جبکہ خاندان کی جانب سے پہلے ادا کیے گئے متعلقہ قانونی اخراجات کی واپسی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
اس معاملے میں سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری ہیں۔ صدر انورا کمارا دسانائیکے نے انوجن کے والدین سے ملاقات کے دوران یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان کے بیٹے کے لیے ممکنہ قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کررہی ہے۔ صدر کی جانب سے سعودی فرمانروا کو ایک تحریری اپیل بھی بھیجی جائے گی جس میں انوجن کے لیے معافی کی درخواست کی جائے گی۔
سری لنکن حکومت ایک خصوصی وفد سعودی عرب بھیجنے کی تیاری بھی کررہی ہے۔ وزیر خارجہ کے مطابق وفد صدر کی جانب سے سعودی قیادت کے نام معافی کی درخواست پہنچائے گا، جبکہ سعودی حکام کے ساتھ براہ راست سفارتی رابطے بھی جاری رکھے جائیں گے۔
سری لنکا کی وزارت خارجہ نے اس سے قبل 18 ستمبر کو جاری بیان میں کہا تھا کہ ریاض میں سری لنکن سفارت خانہ اس کیس کی نگرانی کررہا ہے اور متعلقہ سعودی حکام سے سفارتی ذرائع کے ذریعے رابطے میں ہے۔ وزارت نے انوجن کو ممکنہ قونصلر اور قانونی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔
سری لنکا کے دو سینئر وکلا، اپل کماراپیروما اور فیصل مصطفیٰ، نے بھی کیس میں قانونی معاونت فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ توقع ہے کہ وہ انوجن کے سعودی عرب میں موجود قانونی نمائندوں سے رابطہ کرکے دستیاب قانونی راستوں کا جائزہ لیں گے۔
سری لنکا کی متعدد صحافتی تنظیموں نے بھی سعودی قیادت سے انسانی بنیادوں پر رحم کی اپیل کی ہے۔ تنظیموں نے سعودی عرب کے عدالتی اور قانونی نظام کے احترام کا اظہار کرتے ہوئے سری لنکن حکومت سے کہا ہے کہ وہ اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے برقرار رکھے اور انوجن کے لیے دستیاب قانونی و انسانی بنیادوں پر تمام ممکنہ راستے اختیار کرے۔



