
دو سالہ بچی کے علاج کے لیے سوشل میڈیا مہم، 9 کروڑ کے انجیکشن کی خاطر 6.50 کروڑ روپے جمع
AIIMS کے باہر سے جامع مسجد تک مہم، دو سالہ بچی کے مہنگے علاج کے لیے عوام نے عطیات دے کر مدد کا ہاتھ بڑھایا
نئی دہلی، 25 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) دہلی میں ایک دو سالہ بچی کے علاج کے لیے شروع کی گئی چندہ مہم نے سوشل میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر لوگوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ اسپائنل مسکلر ایٹروفی (SMA) ٹائپ 1 میں مبتلا بچی کے علاج کے لیے ایک مہنگے انجیکشن کی ضرورت بتائی گئی ہے، جس کی قیمت تقریباً 9 کروڑ روپے ہے۔
بچی کی والدہ کئی دنوں سے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (AIIMS) کے باہر مدد کی اپیل کر رہی تھیں۔ اسی دوران سوشل میڈیا انفلوئنسر سنی ماہوَر، جو اپنے سماجی کاموں کے لیے جانے جاتے ہیں، اپنی ٹیم کے ہمراہ وہاں پہنچے اور بچی کے علاج کے لیے عوام سے تعاون کی اپیل شروع کردی۔
سنی ماہوَر نے لوگوں کو بچی کے طبی دستاویزات دکھاتے ہوئے اس کی بیماری اور فوری علاج کی ضرورت سے آگاہ کیا۔ ان کی جانب سے لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق رقم عطیہ کریں، چاہے رقم صرف 100 روپے ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بچی کی حالت اور علاج کی ضرورت پہنچانا تھا۔
اسپائنل مسکلر ایٹروفی ایک نایاب جینیاتی بیماری ہے، جو اعصابی نظام اور پٹھوں کی حرکت کو متاثر کرتی ہے۔ SMA ٹائپ 1 اس بیماری کی شدید اقسام میں شمار ہوتی ہے اور متاثرہ بچوں کو خصوصی طبی نگہداشت اور بروقت علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
AIIMS کے باہر شروع ہونے والی یہ مہم بعد میں دہلی کی تاریخی جامع مسجد تک بھی پہنچی۔ جمعہ کی نماز کے موقع پر سنی ماہوَر اور ان کی ٹیم نے لوگوں سے بچی کے علاج کے لیے تعاون کی اپیل کی۔ ٹیم کے ارکان نے ایسی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں جن پر بچی اور اس کی والدہ کی تصاویر موجود تھیں، جبکہ عطیات کے لیے QR کوڈ بھی نمایاں کیا گیا تھا۔
جامع مسجد کے اطراف بنائی گئی ویڈیوز میں کئی افراد کو نقد رقم دیتے اور بعض افراد کو QR کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کرتے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر مہم کی ویڈیوز تیزی سے پھیلنے کے بعد دہلی سے باہر موجود افراد بھی اس میں شامل ہونے لگے۔
سنی ماہوَر کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو کے مطابق 24 ستمبر تک مہم کے ذریعے تقریباً 6 کروڑ 50 لاکھ روپے جمع کیے جاچکے تھے۔ بتایا گیا کہ یہ رقم مختلف افراد کی جانب سے آن لائن اور دیگر ذرائع سے دی جانے والی امداد کے نتیجے میں جمع ہوئی۔
مہم کی ایک ویڈیو کو سوشل میڈیا پر کروڑوں مرتبہ دیکھا گیا اور اسے لاکھوں افراد نے پسند کیا۔ اس کے بعد مختلف علاقوں سے لوگوں نے بچی کے علاج کے لیے مالی تعاون کیا، جس سے چندہ مہم کو مزید تقویت ملی۔
View this post on Instagram
بچی کے علاج کے لیے درکار رقم بہت زیادہ ہونے کے باعث مہم جاری رکھنے کی اپیل بھی کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اس مہم نے ایک بار پھر یہ ظاہر کیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کس طرح کسی ضرورت مند خاندان کی مدد کے لیے عوام تک اپیل پہنچانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔



