قومی خبریں

استعفے کی بحث کے درمیان چیف الیکشن کمشنر سے ملے سندھو و جوشی، SIR سمیت اہم امور پر گفتگو

اندرونی اختلافات کی خبروں کے درمیان تینوں الیکشن کمشنرز کی میٹنگ، SIR سمیت اہم فیصلوں پر کمیشن کی وضاحت

نئی دہلی، 26 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) الیکشن کمیشن میں مبینہ اختلافات کی خبروں کے درمیان چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ہفتہ کو نئی دہلی کے نرواچن سدن میں اہم اجلاس کیا۔ کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں SIR، نئے ووٹروں کے اندراج، انتخابی فہرستوں اور کمیشن کے اندرونی کام کاج سے متعلق کئی فیصلوں اور وضاحتوں کی تفصیلات سامنے رکھی گئیں۔

تینوں انتخابی کمشنرز کی یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب 23 ستمبر کو شائع ہونے والی ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی SIR سے متعلق بعض فیصلوں اور احکامات پر متعدد مواقع پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن کے کام کاج اور SIR کے طریقہ کار پر سیاسی اور قانونی سطح پر بحث تیز ہوئی۔

کمیشن نے اپنی تازہ وضاحت میں کہا کہ SIR سے متعلق اہم فیصلے مکمل کمیشن کی متفقہ منظوری سے کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق 24 جون 2025 کو مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں SIR شروع کرنے سے متعلق حکم بھی مکمل کمیشن کی متفقہ منظوری کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ اس کے بعد SIR سے متعلق جاری کیے گئے شیڈول بھی کمیشن کی متفقہ منظوری سے جاری ہوئے۔

نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے Form 6 سے متعلق اٹھائے گئے سوالات پر بھی کمیشن نے اپنا موقف پیش کیا۔ SIR کے دوران فارم کے ساتھ منسلک اعلامیے میں نئے ووٹرز سے سابقہ SIR میں اپنے والدین کے نام کے ذریعے ریکارڈ سے مطابقت پیدا کرنے سے متعلق معلومات طلب کیے جانے پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ کمیشن نے کہا کہ SIR کے دوران اس اعلامیے کو برقرار رکھا گیا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اسے برقرار رکھا تھا۔ تاہم SIR کی مدت کے علاوہ نئے ووٹرز کے اندراج کے لیے Registration of Electors Rules, 1960 کے تحت مقررہ فارم استعمال کیے جائیں گے۔

ECINET کے حوالے سے بھی کمیشن نے اہم فیصلہ کیا۔ رپورٹ میں انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا تک رسائی اور آن لائن نظام کے کام کاج سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔ کمیشن نے وضاحت کی کہ فیلڈ افسران کو ان کے قانونی اختیارات کے مطابق رول بیسڈ رسائی حاصل ہے۔ ساتھ ہی ECINET کے کام کاج کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی سربراہی سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر کریں گے۔ کمیٹی میں کسی IIT یا IIIT سے ایک آزاد ماہر کو بھی شامل کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ مستقبل میں آئی ٹی ماڈیولز اور پورٹلز سے متعلق تمام نئے منصوبوں کو پہلے افسران کی کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا، جس کے بعد انہیں منظوری کے لیے مکمل کمیشن کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ کمیشن نے کہا کہ فیلڈ افسران کو اگر مزید سہولت یا لچک درکار ہوئی تو اس پر بھی عمل کیا جائے گا۔

کمیشن کے اندر کام کی تقسیم سے متعلق کیبنٹ سیکریٹری کو بھیجے گئے خط پر بھی وضاحت سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ خط ایک ایسے افسر کے کام کی تقسیم سے متعلق تھا جو الیکشن کمیشن میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ہے۔ کمیشن نے کہا کہ یہ معاملہ کسی انتخابی پالیسی یا آئی ٹی ڈویژن کی پالیسی سے متعلق نہیں تھا بلکہ افسر کے کام کاج سے متعلق انتظامی معاملہ تھا۔

کمیشن کے مطابق جس کام کی تقسیم پر اعتراض کیا گیا تھا، اس سے متعلق احکامات دونوں انتخابی کمشنرز کی ہدایات کے بعد نافذ نہیں کیے گئے۔ کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ آئی ٹی ڈویژن کی نگرانی ڈپٹی الیکشن کمشنر کے پاس برقرار رہی۔

گوا کے 97 ووٹرز کا معاملہ بھی کمیشن کی وضاحت میں شامل رہا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق گوا کے چیف الیکٹورل آفیسر نے بوتھ لیول افسران کو ان ووٹرز کے گھروں پر جا کر ضروری فارم حاصل کرنے کی ہدایت دی۔ کمیشن نے بتایا کہ 97 میں سے 81 ووٹرز پہلے ہی Form 6 جمع کرا چکے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے اپنے اندرونی کام کاج کو مزید منظم بنانے کے لیے بھی اقدامات کا اعلان کیا۔ اب کمیشن کے تمام اجلاسوں کا ایجنڈا پہلے سے اراکین کو فراہم کیا جائے گا اور اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس بھی جاری کیے جائیں گے۔ کمیشن نے کہا کہ انتخابی کمشنرز کی جانب سے افسران کو دی جانے والی ہدایات پر بھی باقاعدگی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

دریں اثنا، دہلی میں SIR کے تحت دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 30 اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے جبکہ ان معاملات کو نمٹانے کی آخری تاریخ 30 نومبر مقرر کی گئی ہے۔ مہاراشٹر میں بھی متعلقہ تاریخوں میں توسیع کرتے ہوئے دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 12 اکتوبر اور ان کے نمٹارے کی آخری تاریخ 10 نومبر کر دی گئی ہے۔

SIR اور الیکشن کمیشن کے اندرونی کام کاج سے متعلق یہ معاملہ سیاسی سطح پر بھی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے میڈیا میں سامنے آنے والے مبینہ اعتراضات کی بنیاد پر کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی تازہ وضاحت میں تاہم اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اندرونی غور و خوض اور اختلافات کو رسمی فیصلوں سے الگ دیکھا جانا چاہیے، جبکہ SIR سمیت اہم فیصلے مکمل کمیشن کی اجتماعی اور متفقہ منظوری سے کیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button