
سہراب الدین انکاؤنٹر کیس: 22 ملزمان کی بریت کے خلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا سی بی آئی اور پولیس اہلکاروں کو نوٹس
سپریم کورٹ نے مقدمے میں 92 گواہوں کے منحرف ہونے کو اہم معاملہ قرار دیتے ہوئے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی بات کہی۔
نئی دہلی، 28 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) سہراب الدین شیخ، ان کی اہلیہ کوثر بی اور ساتھی تلسی رام پرجاپتی کی مبینہ فرضی انکاؤنٹر ہلاکتوں سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے 22 ملزمان کی بریت کے خلاف دائر درخواست پر سی بی آئی اور تمام ملزمان کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ان 22 ملزمان میں 21 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ یہ درخواست سہراب الدین کے بھائی روباب الدین شیخ نے ممبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی ہے جس میں خصوصی سی بی آئی عدالت کی جانب سے تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا تھا۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی. موہنا پر مشتمل بنچ نے روباب الدین کی جانب سے دائر خصوصی اجازت درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے معاملے کی مزید سماعت کے لیے 28 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
سماعت کے دوران روباب الدین کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل داما سیشادری نائیڈو نے عدالت کو بتایا کہ سہراب الدین کے ایک اور بھائی نایاب الدین شیخ نے بھی ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سننے کی استدعا کی۔
سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت کے دوران اس بات پر خاص توجہ دی کہ ٹرائل کے دوران 92 گواہ اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے تھے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں گواہوں کا منحرف ہونا قابل توجہ معاملہ ہے اور عدالت بعض گواہوں کے بیانات کا جائزہ لینا چاہتی ہے تاکہ یہ اطمینان کیا جا سکے کہ مقدمے کی سماعت منصفانہ اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہوئی یا نہیں۔
ملزمان کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کے. پرمیشور نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ نچلی عدالت اور ہائی کورٹ دونوں نے تفصیلی فیصلوں کے ذریعے ملزمان کو بری کیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے جلد سماعت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان نہیں چاہتے کہ معاملہ طویل عرصے تک زیر التوا رہے۔
تاہم سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ موجودہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی اس کیس میں ڈسچارج کیے جانے کے معاملے کو نہیں دیکھے گی۔ عدالت نے کہا کہ ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کے پیراگراف 43 میں امیت شاہ کے ڈسچارج سے متعلق معاملے پر دوبارہ غور نہیں کیا جائے گا۔
ممبئی ہائی کورٹ نے اپنے 7 مئی کے فیصلے میں سہراب الدین کے بھائیوں کی جانب سے دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے 22 ملزمان کی بریت برقرار رکھی تھی۔ اپیل میں خصوصی سی بی آئی عدالت کے دسمبر 2018 کے فیصلے کو ختم کرنے یا ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 386(a) کے تحت دوبارہ ٹرائل کرانے کی درخواست کی گئی تھی۔
درخواست گزاروں نے ٹرائل کے دوران مختلف خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بعض ایسے مجسٹریٹس کو عدالت میں طلب نہیں کیا گیا جن کے سامنے منحرف ہونے والے گواہوں نے پہلے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کچھ گواہوں نے بعد میں دعویٰ کیا کہ ٹرائل کے دوران ان کے بیانات درست انداز میں ریکارڈ نہیں کیے گئے۔ تاہم ممبئی ہائی کورٹ نے ان دلائل کی بنیاد پر بریت کے فیصلے میں مداخلت نہیں کی۔
سی بی آئی نے ممبئی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ اس نے دسمبر 2018 میں خصوصی عدالت کی جانب سے سنائے گئے بریت کے فیصلے کو قبول کر لیا تھا اور اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔
یہ مقدمہ نومبر 2005 میں سہراب الدین شیخ، ان کی اہلیہ کوثر بی اور تلسی رام پرجاپتی کو حیدرآباد سے سانگلی جانے والی ایک لگژری بس سے مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے کے واقعے سے متعلق ہے۔ استغاثہ کے مطابق سہراب الدین کو نومبر 2005 میں احمد آباد کے قریب گجرات اور راجستھان پولیس کی مشترکہ ٹیم نے مبینہ طور پر ایک فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق سہراب الدین کی اہلیہ کوثر بی کو بھی چند روز بعد مبینہ طور پر ہلاک کیا گیا اور ان کی لاش کو خفیہ طور پر ٹھکانے لگایا گیا۔ اس کیس میں اہم گواہ سمجھے جانے والے تلسی رام پرجاپتی کو دسمبر 2006 میں گجرات اور راجستھان کی سرحد کے قریب ایک اور مبینہ فرضی انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اس معاملے کی ابتدائی تحقیقات گجرات پولیس نے کی تھیں، تاہم بعد میں سپریم کورٹ نے تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کر دیں۔ عدالت نے 2012 میں مقدمے کی سماعت گجرات سے ممبئی منتقل کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔
ٹرائل کے دوران گجرات، راجستھان اور آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے حاضر سروس اور ریٹائرڈ پولیس اہلکاروں کے علاوہ ایک فارم ہاؤس کے مالک کے خلاف بھی کارروائی ہوئی، جس پر متاثرین کو غیر قانونی طور پر قید رکھنے کا الزام تھا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران 2014 میں خصوصی سی بی آئی جج بی ایچ لویا کی موت بھی ہوئی تھی۔ اس کے بعد دسمبر 2014 میں جج ایم بی گوساوی نے امیت شاہ کو کیس سے ڈسچارج کر دیا تھا۔
21 دسمبر 2018 کو خصوصی سی بی آئی جج ایس جے شرما نے تمام 22 ملزمان کو بری کرتے ہوئے کہا تھا کہ استغاثہ سازش اور قتل کے الزامات ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ شواہد پیش نہیں کر سکا۔ ٹرائل کورٹ کے مطابق مقدمے کے دوران 210 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 92 گواہ اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوگئے تھے۔
خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ ٹھوس شواہد کے بغیر محض شبہ یا اخلاقی بنیادوں پر ملزمان کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اب سپریم کورٹ کی جانب سے جاری نوٹس کے بعد کیس میں آئندہ سماعت 28 اکتوبر کو ہوگی۔



