قومی خبریں

بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر سپریم کورٹ سخت، مرکز سے مؤثر حفاظتی نظام پر جواب طلب

نئی دہلی، 28 ستمبر 2026 (اردودنیانیوز/ایجنسیز) نابالغ بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق معاملے میں سپریم کورٹ نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے مؤثر حفاظتی نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ عدالت نے مرکز سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے تحفظ اور غیر قانونی مواد کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

یہ معاملہ ’جسٹ رائٹس فار چلڈرن الائنس‘ کی جانب سے دائر درخواست سے متعلق ہے، جس میں نابالغ بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی شرائط و ضوابط قبول کرنے کے قانونی پہلو پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے سینئر ایڈووکیٹ ایچ ایس پھلکا نے عدالت کے سامنے بچوں کی آن لائن حفاظت اور عمر کی مؤثر تصدیق کا معاملہ اٹھایا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر افراد قانونی طور پر معاہدہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے، اس کے باوجود کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچے اپنی عمر کی تصدیق کرتے ہوئے اکاؤنٹ بنا لیتے ہیں اور پلیٹ فارم کی شرائط و ضوابط قبول کر لیتے ہیں۔ درخواست گزار نے نابالغوں کے لیے عمر کی تصدیق اور والدین یا قانونی سرپرست کی رضامندی پر مبنی نظام وضع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے مکمل طور پر دور کرنا مناسب حل نہیں ہوگا، کیونکہ تعلیم، تحقیق اور دیگر ضروری سرگرمیوں کے لیے انہیں ٹیکنالوجی تک رسائی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ تاہم، عمر کی تصدیق، والدین کی رضامندی اور نگرانی جیسے حفاظتی اقدامات کے ذریعے بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کے دوران مرکز سے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے موجودہ قانونی نظام اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داریوں سے متعلق معلومات طلب کی ہیں۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال اور دیگر نقصان دہ مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر حفاظتی انتظامات ضروری ہیں۔

عدالت میں بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی سے متعلق مواد کی آن لائن گردش کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سپریم کورٹ نے مرکز کو اس سلسلے میں کیے گئے اقدامات اور مستقبل میں ایسے مواد کی روک تھام کے لیے وضع کیے جانے والے نظام کی تفصیلات پیش کرنے کا موقع دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ بچوں کے تحفظ سے متعلق معاملات کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور خلاف ورزیوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔ عدالت نے متعلقہ وزارتوں سے موجودہ قوانین کے نفاذ اور مستقبل میں بچوں کے آن لائن تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

واضح رہے کہ موجودہ معاملے میں سپریم کورٹ نے 18 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ملک گیر پابندی کا حتمی حکم جاری نہیں کیا ہے۔ عدالت کے سامنے بنیادی سوال نابالغوں کی آن لائن حفاظت، عمر کی تصدیق، والدین یا قانونی سرپرست کی رضامندی اور سوشل میڈیا کمپنیوں کی قانونی ذمہ داریوں سے متعلق حفاظتی نظام کا ہے۔

معاملے کی آئندہ سماعت 15 اکتوبر 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button