بین الاقوامی خبریں

مصنوعی ذہانت ایک ارب اموات کا سبب بن سکتی ہے-بل گیٹس

واشنگٹن، 28 ستمبر( اردو دنیا نیوز / ایجنسیز) مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے اثرات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں جانے کی صورت میں ایسے تباہ کن واقعات کا سبب بن سکتی ہے جن میں ایک ارب تک انسانوں کی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہو۔

بل گیٹس نے امریکی ٹی وی پروگرام "میٹ دی پریس” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت ماضی کی دیگر بڑی ٹیکنالوجیز سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق اے آئی کی صلاحیتیں غیر معمولی رفتار سے بڑھ رہی ہیں اور آنے والے برسوں میں یہ انسانی ذہانت سے کہیں زیادہ طاقتور ہوسکتی ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا مصنوعی ذہانت انسانیت کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے تو بل گیٹس نے کہا کہ اے آئی میں اتنی طاقت ضرور موجود ہے کہ یہ ایسے واقعات کو جنم دے سکتی ہے جن کے نتیجے میں ایک ارب اموات ہوسکتی ہیں۔

بل گیٹس نے خاص طور پر اس خطرے کی نشاندہی کی کہ اگر جدید اے آئی ٹیکنالوجی ایسے افراد کے ہاتھ لگ جائے جو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہوں تو صورتحال انتہائی سنگین ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق جدید اے آئی ٹولز کے غلط استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

مائیکروسافٹ کے شریک بانی نے کہا کہ حکومتوں کے پاس مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے بعض خطرناک حالات کو سمجھنے اور ان کی نگرانی کے لیے ابھی کافی تکنیکی مہارت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے حیاتیاتی حملوں، سائبر حملوں اور دیگر حساس شعبوں میں اے آئی کے ممکنہ استعمال کو خاص طور پر اہم قرار دیا۔

بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے رضاکارانہ حفاظتی اقدامات پر مکمل انحصار کو بھی ناکافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتوں کو قانون سازی کے ذریعے اے آئی نظام میں حفاظتی انتظامات اور نگرانی کے مؤثر طریقہ کار کو یقینی بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہر جدید اے آئی نظام میں حفاظتی اقدامات اور نگرانی کی صلاحیت موجود ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایسے ضوابط سے ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار پر کچھ اثر پڑ سکتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی کی ترقی مکمل طور پر روک دی جائے۔

بل گیٹس کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کے ضابطے اور اس کی ترقی کے حوالے سے سیاسی و تکنیکی بحث تیز ہوگئی ہے۔ ایک طرف ماہرین اور بعض قانون ساز اے آئی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے سخت حفاظتی اصولوں کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی حکام کا ایک حلقہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ضرورت سے زیادہ قوانین امریکا کی عالمی تکنیکی مسابقت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

امریکی رکنِ کانگریس رو کھنہ نے بھی ایسے اے آئی نظام کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے جو انسانی مداخلت کے بغیر اپنی صلاحیتوں میں مسلسل بہتری لانے کے قابل ہوں۔ ان کے مطابق ایسے نظام انسانی کنٹرول کے لیے ایک نیا خطرہ پیدا کرسکتے ہیں۔

رو کھنہ نے امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت سے متعلق حفاظتی اصولوں پر بات چیت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو جدید ترین اے آئی نظام کے حوالے سے مشترکہ اصول اور قابلِ تصدیق حفاظتی انتظامات وضع کرنے چاہئیں۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک خصوصی مکالمے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ اس میں حیاتیاتی تحقیق، جوہری نظام اور دیگر حساس شعبوں میں اے آئی کے ممکنہ استعمال اور حفاظتی انتظامات پر ماہرین کے درمیان بات چیت کی جائے گی۔

دوسری جانب امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ضرورت سے زیادہ قانون سازی کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ فوجداری اور سول قوانین کے تحت اے آئی کے ذریعے جرائم کی صورت میں افراد اور کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔

بلانچ نے خبردار کیا کہ ایسے ضوابط نہیں بنائے جانے چاہئیں جن کی وجہ سے امریکا مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں پیچھے رہ جائے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی میں پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے کمپنیوں کو اپنے نظام میں ضروری تبدیلیاں کرنے کا موقع بھی دیا جانا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے ساتھ دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی کی حفاظت، نگرانی اور ذمہ دارانہ استعمال پر بحث جاری ہے۔ ماہرین کے درمیان اس بات پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں کہ اے آئی کے مستقبل کے خطرات کس حد تک سنگین ہوسکتے ہیں، تاہم اس کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر عالمی سطح پر توجہ بڑھ رہی ہے۔

بھارت میں بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال سرکاری خدمات، صحت، زراعت، تعلیم اور ڈیجیٹل تجارت سمیت مختلف شعبوں میں بڑھ رہا ہے۔ حکومت کی سطح پر اے آئی کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے ساتھ ٹیکنالوجی میں جدت اور عوام تک اس کے فوائد کی رسائی پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

بل گیٹس کا تازہ انتباہ اس عالمی بحث کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ انسانی نگرانی، حفاظتی نظام اور قانونی ضوابط کو کس طرح مؤثر بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button