سرورققومی خبریں

اجین شاہی مسجد معاملہ: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے مسجد کمیٹی کی اپیل خارج کردی

اجین، 28 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز) اجین کی شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کی توسیع کے لیے ہٹانے کے معاملے میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے مسجد کمیٹی کی اپیل خارج کردی۔ ڈویژن بنچ نے مسجد انتظامیہ اور اجین میونسپل کارپوریشن کے درمیان طے پانے والی شرائط کو بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا اور کہا کہ کارپوریشن کی جانب سے دی گئی یقین دہانیاں اس پر لاگو رہیں گی۔

یہ معاملہ 9 ستمبر کے عدالتی فیصلے سے متعلق ہے، جب جسٹس سندیپ این بھٹ کی سنگل بنچ نے شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کے لیے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے جاری نوٹس کے خلاف دائر دو درخواستیں خارج کردی تھیں۔ درخواست گزاروں نے کہا تھا کہ کارروائی سے آئین کی دفعات 14، 25، 26 اور 300 اے کے تحت حاصل حقوق متاثر ہورہے ہیں۔

عدالتی حکم کے مطابق سڑک کی مجوزہ توسیع کی زد میں مسجد کے نماز ہال کا ایک حصہ، ایک مینار  کا حصہ آ رہا تھا۔ مسجد کمیٹی نے ان حصوں کو ہٹانے کی کارروائی روکنے کی درخواست کی تھی۔

سنگل بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ میونسپل کارپوریشن نے کارروائی کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار کیا اور متعلقہ فریق کو اپنا اعتراض پیش کرنے کا موقع بھی دیا۔ عدالت نے سڑک کی توسیع کے منصوبے کو عوامی سہولت سے متعلق قرار دیتے ہوئے انتظامی کارروائی میں مداخلت سے انکار کردیا تھا۔

یہ منصوبہ کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر تک تقریباً 900 میٹر طویل سڑک سے متعلق ہے، جسے 15 میٹر چوڑا کرنے کی تجویز ہے۔ یہ راستہ گوپال مندر، مہاکال مندر اور دریائے کشیپرا کی سمت جانے والے اہم راستوں میں شامل ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سنگھستھ 2028 کے دوران بڑی تعداد میں عقیدت مندوں کی آمد کے پیش نظر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور بھیڑ کو منظم کرنے کے لیے سڑک کی گنجائش بڑھانا ضروری ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق کارروائی صرف شاہی مسجد تک محدود نہیں ہے۔ منصوبے کی زد میں آنے والے دیگر مذہبی مقامات اور تعمیرات کے کچھ حصے بھی ہٹائے گئے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سڑک کی مجوزہ حدود کے مطابق کی جارہی ہے۔

28 ستمبر کو ڈویژن بنچ کے سامنے مسجد کمیٹی کی اپیل پر سماعت ہوئی۔ اس دوران مسجد انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کے درمیان طے پانے والی شرائط عدالت کے سامنے پیش کی گئیں۔ جسٹس سوبودھ ابھیانکر اور جسٹس جے کمار پلائی پر مشتمل بنچ نے شرائط اور کارپوریشن کی یقین دہانیوں کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے اپیل خارج کردی۔

عدالت میں کارروائی کے دوران اجین میں شاہی مسجد کے قریب بھی کشیدگی پیدا ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق مسجد کے اطراف بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے۔ متاثرہ حصے کو ہٹانے کی کارروائی کے دوران پولیس اور احتجاج کرنے والے افراد کے درمیان صورتحال کشیدہ ہوئی اور پولیس پر پتھراؤ کی اطلاعات سامنے آئیں۔

پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پولیس کے مطابق واقعے میں بعض اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ پتھراؤ میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی اور ڈرون فوٹیج کی جانچ کی جارہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق مسجد انتظامیہ اور مقامی حکام کے درمیان بات چیت کے بعد سڑک کی زد میں آنے والے حصے کو مسجد سے وابستہ افراد کی جانب سے خود ہٹانے پر اتفاق ہوا تھا۔ پیر کی صبح یہ کام شروع بھی کیا گیا، تاہم کچھ لوگوں کی مخالفت کے بعد موقع پر صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

ہائی کورٹ کے 9 ستمبر کے فیصلے اور 28 ستمبر کو ڈویژن بنچ کی جانب سے اپیل خارج کیے جانے کے بعد شاہی مسجد کے متاثرہ حصے کو ہٹانے سے متعلق کارروائی جاری رکھنے کی قانونی رکاوٹ ختم ہوگئی ہے۔ سڑک کی توسیع کا یہ منصوبہ سنگھستھ 2028 سے قبل اجین میں ٹریفک اور زائرین کی آمدورفت کو بہتر بنانے کے لیے جاری شہری ترقیاتی کاموں کا حصہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button