قومی خبریں

2 ہزار روپے سے زیادہ کے UPI لین دین پر چارجز، سپریم کورٹ نے مرکز سے جواب طلب کرلیا، عبوری روک لگانے سے انکار

"سپریم کورٹ نے UPI چارجز کے معاملے میں مرکز اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب کرلیا۔"

نئی دہلی، 28 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) 2 ہزار روپے سے زیادہ مالیت کے مخصوص UPI لین دین پر Merchant Discount Rate (MDR) عائد کرنے کے مرکز کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے پیر کو درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت، ریزرو بینک آف انڈیا (RBI)، نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (NPCI) اور UPI & Services Steering Committee کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کرلیا، تاہم اس مرحلے پر نئے چارجز کے نفاذ پر عبوری روک لگانے سے انکار کردیا۔

چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔ یہ درخواست ایڈووکیٹ انجان دتہ کی جانب سے ایڈووکیٹ آشوتوش دوبے کے ذریعے دائر کی گئی ہے، جس میں 14 ستمبر 2026 کو جاری مرکزی حکومت کی گزٹ نوٹیفکیشن اور 15 ستمبر کو سامنے آئے اس فریم ورک کو چیلنج کیا گیا ہے، جس کے تحت مخصوص Person-to-Merchant (P2M) UPI لین دین پر MDR عائد کیا جانا ہے۔

سماعت کے دوران مرکز کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل این وینکٹارمن نے عدالت کو بتایا کہ مجوزہ چارجز 15 اکتوبر سے نافذ ہوں گے اور تقریباً 96 فیصد UPI لین دین اس فیس کے دائرے میں نہیں آئیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضروری خدمات سے متعلق لین دین کے لیے چارج کی زیادہ سے زیادہ حد 5 روپے مقرر کی گئی ہے۔

مرکز کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ یہ رقم حکومت کی آمدنی کے لیے عائد نہیں کی جارہی بلکہ ادائیگی کے نظام میں شامل Payment Aggregators اور بینکوں کے درمیان سیٹلمنٹ فیس کے طور پر کام کرے گی۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے کہا کہ الیکٹرانک لین دین کو پروسیس کرنے میں بینکوں کو اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں، جبکہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے استعمال پر پہلے ہی مختلف چارجز عائد ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق UPI کو اب تک ان فیس سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا اور نئے انتظام کا مقصد ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو طویل مدت تک مؤثر انداز میں چلانے کے لیے مالی بنیاد فراہم کرنا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ نئے فریم ورک کے نفاذ پر عبوری روک لگائی جائے۔ ان کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ چارجز کے نفاذ سے بعض حالات میں بدعنوانی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے اس مرحلے پر عبوری حکم جاری کرنے سے گریز کیا اور متعلقہ فریقوں سے مکمل حقائق اور دستاویزات حلف نامے کے ذریعے پیش کرنے کو کہا۔

چیلنج کیے گئے فریم ورک کے مطابق مخصوص P2M UPI لین دین میں 2 ہزار روپے سے زائد رقم پر 0.4 فیصد MDR عائد کرنے کی تجویز ہے۔ 75 ہزار روپے یا اس سے زیادہ کے لین دین کے لیے زیادہ سے زیادہ چارج 300 روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بعض شعبوں کے لیے الگ شرحیں رکھی گئی ہیں۔

درخواست گزار نے اس نظام کو مبینہ طور پر من مانی اور امتیازی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ 2 ہزار روپے کی حد، ماہانہ ایک لاکھ روپے کی وصولی کی درجہ بندی، مختلف شعبوں کے لیے الگ شرحوں اور 75 ہزار روپے کی زیادہ سے زیادہ حد کا تعین کن اعداد و شمار اور مطالعات کی بنیاد پر کیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان درجہ بندیوں کے لیے استعمال کیے گئے مکمل اعداد و شمار اور طریقہ کار عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔

درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر کوئی صارف یا تاجر 2 ہزار روپے کی ادائیگی کرتا ہے تو اس پر مجوزہ MDR لاگو نہیں ہوگا، لیکن 2,001 روپے کی ادائیگی پر فیصد کے حساب سے چارج عائد ہوسکتا ہے۔ درخواست گزار نے اس فرق کی بنیاد اور اس کے لیے اختیار کیے گئے معیار پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

درخواست میں UPI & Services Steering Committee کے کردار کو بھی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ شرحوں اور لین دین کی درجہ بندی جیسے اہم مالی فیصلے واضح قانونی پالیسی، مقررہ معیارات، عوامی طور پر دستیاب قواعد اور مؤثر ریگولیٹری نگرانی کے بغیر کسی ذیلی ادارے یا کمیٹی کو منتقل نہیں کیے جاسکتے۔

درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس فیصلے سے متعلق مکمل ریکارڈ پیش کیا جائے، جس میں قانونی بنیاد، UPI & Services Steering Committee کی تشکیل اور اختیارات، اس کے فیصلے اور میٹنگز کے منٹس، MDR کی شرح مقرر کرنے کی بنیاد اور ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں شامل نجی اداروں کے درمیان فیس تقسیم کرنے کا قانونی جواز شامل ہو۔

درخواست میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ 2 ہزار روپے سے زیادہ کے مخصوص UPI لین دین پر MDR عائد کرنے والے فریم ورک کو ختم یا معطل کیا جائے۔ متبادل طور پر درخواست گزار نے شفاف مشاورت، اعداد و شمار کی اشاعت، اثرات کے جائزے اور مائیکرو و چھوٹے کاروباروں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کے بعد پورے نظام پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی ہے۔

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ نیا فریم ورک UPI نظام کی مالی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق بڑے مالیت والے مرچنٹ لین دین پر معمولی فیس سے ڈیجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے، سائبر سیکیورٹی اور Tier III سے Tier VI شہروں اور دیہی علاقوں میں چھوٹے تاجروں کے لیے معاونت پر ہونے والے اخراجات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ عام صارفین کے لیے UPI ادائیگی مفت برقرار رہے گی اور Person-to-Person یعنی ایک فرد سے دوسرے فرد کو کی جانے والی ادائیگیوں پر رقم کی حد سے قطع نظر کوئی چارج نہیں ہوگا۔ حکومت کے مطابق UPI QR کے ذریعے ماہانہ ایک لاکھ روپے تک کمانے والے تاجر بھی زیرو چارجز کی سہولت حاصل کرتے رہیں گے، جبکہ 2 ہزار روپے سے کم مالیت کی 95 فیصد سے زیادہ مرچنٹ ادائیگیاں بھی فیس سے مستثنیٰ رہیں گی۔

RBI نے بھی 2 ہزار روپے سے زیادہ کے UPI لین دین پر MDR لاگو کرنے کو ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے ضروری قدم قرار دیا ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق صارفین کے لیے UPI لین دین بدستور مفت رہے گا۔سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ فریقوں سے جواب اور متعلقہ مواد طلب کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت چار ہفتوں بعد مقرر کی ہے۔ فی الحال عدالت نے مجوزہ MDR فریم ورک پر عبوری روک عائد نہیں کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button