
امریکہ میں مخصوص ادویات پر بھارت کو ٹیرف استثنیٰ
خصوصی ادویات کی بعض اقسام پر بھارتی فارما کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ میں زیرو ٹیرف کی سہولت ملے گی۔
واشنگٹن، 28 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ نے مخصوص دواسازی مصنوعات اور فارماسیوٹیکل اجزا پر درآمدی ٹیرف سے استثنیٰ حاصل کرنے والے ممالک کی فہرست جاری کردی ہے، جس میں بھارت بھی شامل ہے۔ فہرست میں شامل مصنوعات پر زیرو ٹیرف لاگو ہوگا۔
امریکی محکمہ تجارت نے یہ فہرست ایسے وقت جاری کی ہے جب امریکہ بعض پیٹنٹ شدہ ادویات اور ان سے متعلق دواسازی اجزا کی درآمد پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ متعلقہ ٹیرف کا اطلاق بعض کمپنیوں اور مصنوعات پر 29 ستمبر سے ہونا ہے۔
تاہم اس فیصلے کا اطلاق بھارت سے امریکہ برآمد ہونے والی تمام ادویات پر نہیں ہوگا۔ ٹیرف سے استثنیٰ صرف ان مخصوص ادویات اور دواسازی اجزا کو حاصل ہوگا جو اپریل میں جاری کیے گئے امریکی صدارتی اعلان کے تحت مقررہ زمروں میں شامل ہیں۔
استثنیٰ حاصل کرنے والی مصنوعات میں نایاب بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات، نیوکلیئر میڈیسن، پلازما سے تیار کردہ علاج، بانجھ پن کے علاج سے متعلق ادویات، سیل تھراپی، جین تھراپی اور اینٹی باڈی ڈرگ کنجوگیٹس شامل ہیں۔
اس کے علاوہ کیمیائی، حیاتیاتی، تابکاری اور جوہری خطرات سے نمٹنے کے لیے استعمال ہونے والی بعض طبی مصنوعات اور جانوروں کے علاج سے متعلق مخصوص ادویات بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
امریکہ نے بھارت کے علاوہ ارجنٹینا، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، یورپی یونین، گوئٹے مالا، انڈونیشیا، جاپان، اردن، ملائیشیا، شمالی مقدونیہ، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ اور لیختن اسٹائن، تائیوان، تھائی لینڈ، برطانیہ اور ویتنام کو بھی فہرست میں شامل کیا ہے۔
امریکی محکمہ تجارت کے مطابق ان ممالک سے درآمد کی جانے والی اہل مصنوعات کو صفر فیصد ٹیرف کی سہولت اس لیے دی جا سکتی ہے کیونکہ ان کے امریکہ کے ساتھ تجارتی اور سکیورٹی سے متعلق فریم ورک معاہدے موجود ہیں یا ان پر عمل درآمد متوقع ہے۔
یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپریل میں جاری کیے گئے صدارتی اعلان کا حصہ ہے۔ اس اعلان کے ذریعے Trade Expansion Act کے Section 232 کے تحت دواسازی مصنوعات اور ان کے اجزا کی درآمد سے متعلق نئی ٹیرف پالیسی متعارف کرائی گئی تھی۔
اس پالیسی کے تحت مخصوص پیٹنٹ شدہ ادویات اور ان کے متعلقہ اجزا پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ تجارت کے مطابق ایک مخصوص فہرست میں شامل کمپنیوں کے لیے یہ ٹیرف 31 جولائی سے نافذ ہوا، جبکہ دیگر متعلقہ کمپنیوں پر اس کا اطلاق 29 ستمبر سے ہوگا۔
امریکی محکمہ تجارت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جنیرک ادویات اور ان سے متعلق دواسازی اجزا Section 232 کے تحت عائد کیے گئے مخصوص ٹیرف میں شامل نہیں ہیں۔ یہ معاملہ بھارت کے لیے اہم ہے کیونکہ امریکہ کو بھارتی فارما کمپنیوں کی برآمدات میں جنیرک ادویات کا نمایاں حصہ ہے۔
بھارت دنیا میں جنیرک ادویات تیار کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے اور امریکی صحت کے شعبے کے لیے اہم ادویات فراہم کرتا ہے۔ بھارتی دوا ساز کمپنیاں فعال دواسازی اجزا، تیار شدہ ادویات اور مختلف طبی علاج میں استعمال ہونے والی مصنوعات امریکہ کو برآمد کرتی ہیں۔
نئی فہرست میں بھارت کی شمولیت سے ان مخصوص اور اعلیٰ قدر والی دواسازی مصنوعات کو امریکہ کی مارکیٹ میں اضافی درآمدی ٹیرف سے استثنیٰ مل سکے گا جو مقررہ زمروں میں آتی ہیں۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت سے امریکہ برآمد ہونے والی تمام فارماسیوٹیکل مصنوعات کو عمومی طور پر ٹیرف سے استثنیٰ حاصل ہوگیا ہے۔
امریکہ کی نئی پالیسی کا ایک اہم مقصد ملک میں دواسازی مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینا اور بیرونی سپلائی پر انحصار کم کرنا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت بعض مخصوص طبی مصنوعات کو ٹیرف سے استثنیٰ دیا گیا ہے، جبکہ دیگر دواسازی مصنوعات کے حوالے سے امریکی ٹیرف پالیسی برقرار ہے۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان دواسازی مصنوعات کی تجارت دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کا اہم حصہ ہے۔ بھارتی دوا ساز صنعت طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ میں جنیرک ادویات اور دیگر فارماسیوٹیکل مصنوعات فراہم کرتی رہی ہے۔ نئی فہرست میں شامل مخصوص مصنوعات کے لیے ٹیرف استثنیٰ سے ان کی امریکہ کو برآمدات پر اضافی درآمدی لاگت سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔



