
گجرات کے نیوز چینل کی اینکرز نے ترشول تھاما، گلا کاٹنے کا اشارہ، ویڈیو پر تنازع
صحافتی غیر جانب داری اور مذہبی سرگرمیوں سے نیوز روم کی وابستگی پر سوالات
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)گجرات کے ایک مقامی نیوز چینل کی خواتین اینکرز کو وشو ہندو پریشد (VHP) کے رہنما کی جانب سے ترشول دیے جانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ ویڈیو میں ایک خاتون اینکر ترشول وصول کرنے کے بعد گلے پر ہاتھ پھیرنے جیسا اشارہ کرتی بھی نظر آتی ہیں۔ ویڈیو میں مذہبی پس منظر کی موسیقی بھی شامل ہے۔ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد میڈیا اداروں کے کردار، صحافتی غیر جانب داری اور مذہبی سرگرمیوں سے نیوز روم کی وابستگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں-
یہ ویڈیو Pradesh 24 Gujarati کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی۔ اس میں VHP رہنما جولت مہتا نیوز چینل کے دفتر میں موجود دکھائی دیتے ہیں، جہاں وہ خواتین ٹی وی اینکرز کو ترشول پیش کرتے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ سرگرمی VHP کی Trishul Deeksha مہم کا حصہ تھی۔
ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نیوز چینل کی جانب سے اس سرگرمی کو اپنے پلیٹ فارم پر شیئر کیے جانے پر سوالات اٹھائے گئے۔ خاص طور پر ویڈیو میں موجود مذہبی موسیقی اور ترشول کے ساتھ کیے گئے اشارے نے صارفین کی توجہ حاصل کی۔
Pradesh 24 Gujarati کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ایڈیٹر اِن چیف راہل سنگھ نے ترشول دیے جانے کے معاملے پر وضاحت پیش کی ہے۔ انہوں نے اسے ایک خاتون صحافی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی قرار دیا۔
راہل سنگھ کے مطابق چینل کی 20 سالہ اینکر پییا گڈھوی کو خود ساختہ مذہبی شخصیت اور قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ رامپال سنگھ جٹین عرف سنت رامپال جی مہاراج سے متعلق رپورٹنگ کے بعد مبینہ طور پر سائبر ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
ایڈیٹر اِن چیف نے دعویٰ کیا کہ پییا گڈھوی کو ہزاروں توہین آمیز فون کالز موصول ہوئیں۔ ان کے مطابق ہراسانی کرنے والوں میں سے ایک شخص نے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے پییا گڈھوی کی قابل اعتراض تصاویر تیار کرکے انہیں پھیلانے کی دھمکی بھی دی۔
راہل سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ خواتین کی عزت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور نیوز روم سائبر ہراسانی، دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا کرنے والی اپنی خاتون صحافی کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
چینل کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں VHP رہنما خواتین اینکرز کو ترشول دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ترشول وصول کرنے کے دوران ایک اینکر کی جانب سے گلے پر ہاتھ پھیرنے جیسا اشارہ بھی ویڈیو میں نظر آتا ہے۔
ویڈیو کے ساتھ مذہبی پس منظر کی موسیقی استعمال کیے جانے کے باعث بھی سوشل میڈیا پر بحث ہوئی۔ بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایک نیوز ادارے کے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مذہبی تنظیم سے متعلق ایسی سرگرمی کو کس ادارتی تناظر میں پیش کیا گیا۔
In a Gujarati TV news channel, VHP leader Jwalit Mehta went and distributed trishuls to the female anchor(s); after receiving the trishul, the female journalists waved it in a cutting throat action.
Gujjus are toxic, 2002 was not an aberration, that is exactly what the Gujjus are pic.twitter.com/jIuZtgi8ih— Flying Lancer Полковник Раджен Bhaduri (@LancerFlying) September 27, 2026
دوسری جانب چینل کے ایڈیٹر راہل سنگھ نے اس اقدام کو ایک خاتون صحافی کی حمایت سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق ترشول پیش کیے جانے کا پس منظر پییا گڈھوی کو مبینہ طور پر درپیش سائبر ہراسانی اور دھمکیوں سے متعلق تھا۔



