تلنگانہ کی خبریںسرورق

جگتیال:مینارٹی ریزیڈنشیل اسکول میں ٹیچر کی ملازمت کا وعدہ، 50 ہزار روپے لینے کا الزام؛ چار سال بعد بھی نوکری نہ ملی

ٹیچر کی ملازمت کا وعدہ، 50 ہزار روپے لینے کا الزام؛ چار سال بعد بھی نوکری نہ ملی

جگتیال، 28 ستمبر (اردودنیا نیوز):تلنگانہ کے جگتیال ضلع کے گولہ پلی منڈل کے موضع چلواکڈور سے تعلق رکھنے والی عالیہ فاطمہ نے ٹیچر کی ملازمت دلانے کے نام پر 50 ہزار روپے لینے اور چار سال گزرنے کے باوجود ملازمت نہ دلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ خاتون نے پرجا وانی پروگرام کے دوران ضلع ایس پی کے نام تحریری شکایت پیش کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات، رقم کی واپسی اور ذمہ دار شخص کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔۔

شکایت میں عالیہ فاطمہ نے بتایا کہ انہوں نے پی جی اور بی ایڈ مکمل کیا ہے اور ملازمت کی تلاش میں تھیں۔ اسی دوران ان کے شوہر کے ایک دوست کے ذریعے ان کی ملاقات محمود علی افسر سے ہوئی۔

خاتون کی شکایت کے مطابق محمود علی افسر جگتیال کے District Minorities Welfare Office میں کنٹریکٹ ملازم ہے۔ عالیہ فاطمہ کا الزام ہے کہ محمود علی افسر نے ان کی تعلیمی قابلیت کا جائزہ لینے کے بعد انہیں مینارٹی ریزیڈنشیل اسکول میں ٹیچر کی ملازمت دلانے کی یقین دہانی کرائی۔

شکایت کے مطابق ملازمت دلانے کے لیے مجموعی طور پر ایک لاکھ روپے دینے کی بات ہوئی تھی، جس میں پہلے 50 ہزار روپے اور ملازمت ملنے کے بعد مزید 50 ہزار روپے ادا کرنے تھے۔ عالیہ فاطمہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے محمود علی افسر کو 50 ہزار روپے ادا کردیے۔

خاتون کے مطابق رقم ادا کرنے کے باوجود تقریباً چار سال گزر گئے، لیکن انہیں ملازمت نہیں ملی۔ ان کا الزام ہے کہ رقم واپس کرنے کا مطالبہ کرنے پر بھی محمود علی افسر نے رقم واپس نہیں کی اور مختلف وجوہات بتا کر معاملہ ٹالتے رہے۔

عالیہ فاطمہ نے اپنی شکایت میں مزید الزام عائد کیا ہے کہ رقم واپس کرنے یا پولیس سے شکایت کرنے کا مطالبہ کرنے پر انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں۔ ان کے مطابق اگر انہوں نے یہ معاملہ کہیں بیان کیا تو رقم واپس نہ کرنے کی دھمکی دی گئی۔

شکایت کنندہ نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ 50 ہزار روپے کی ادائیگی سے متعلق محمود علی افسر کے ساتھ فون پر ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ ان کے پاس موجود ہے۔

عالیہ فاطمہ نے ضلع ایس پی سے درخواست کی ہے کہ شکایت کی مکمل تحقیقات کی جائیں، معاملے کی حقیقت سامنے لائی جائے، ان کی 50 ہزار روپے کی رقم واپس دلائی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ محمود علی افسر کے خلاف مذکورہ الزامات عالیہ فاطمہ کی جانب سے پرجا وانی کے دوران پیش کی گئی تحریری شکایت میں عائد کیے گئے ہیں۔ محمود علی افسر کا موقف اور پولیس کی جانب سے تحقیقات کے نتائج تاحال سامنے نہیں آئے ہیں، اس لیے شکایت میں عائد الزامات کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button