
سخت سکیورٹی کے درمیان اجین میں شاہی مسجد کے حصے کو ہٹانے کا کام دوسرے روز بھی جاری، حالات پُرامن
علاقے میں پولیس کی بھاری تعیناتی، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے
اجین، 29 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز) مدھیہ پردیش کے اجین میں چھتری چوک واقع شاہی مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کا کام منگل کو دوسرے روز بھی سخت سکیورٹی کے درمیان جاری رہا۔ گزشتہ روز کام کے دوران پتھراؤ کے واقعے کے بعد انتظامیہ نے علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی ہے، جبکہ اعلیٰ حکام موقع پر موجود رہ کر صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
چھتری چوک اور اس کے اطراف میں احتیاطی طور پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ علاقے کی کئی مارکیٹیں بھی بند رہیں، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی جانب سے وقفے وقفے سے فلیگ مارچ کیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اجین کے کلکٹر روشن کمار سنگھ نے موقع پر موجود رہتے ہوئے کہا کہ علاقے میں امن برقرار ہے اور حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔ ان کے مطابق انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔
مسجد کا جس حصے کو ہٹایا جا رہا ہے، وہ سمہستھا 2028 کی تیاریوں کے تحت ہونے والی سڑک کی توسیع کے مجوزہ راستے میں آ رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اتوار کی شب اعلیٰ انتظامی و پولیس افسران اور مسلم برادری کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی میٹنگ کے بعد متاثرہ حصے کو رضاکارانہ طور پر ہٹانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
پیر کو انتظامیہ اور پولیس افسران کی موجودگی میں ہٹانے کا کام شروع کیا گیا، تاہم اس دوران موقع پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی جس سے حالات کشیدہ ہوگئے تھے۔ صورتحال کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور بھیڑ کو منتشر کر دیا۔ اس کے بعد چھتری چوک اور اطراف میں سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی۔
پتھراؤ کے معاملے میں مہاکال، کھرکوا اور کوتوالی تھانوں میں مجموعی طور پر آٹھ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، جن میں 20 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق پتھراؤ سے متعلق مقدمات میں نامزد تمام افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
پولیس نے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر گمراہ کن پیغامات اور ویڈیوز پھیلانے کے معاملے میں بھی بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 196(1)، 299، 353(2) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس کے مطابق عمران خان نے 27 ستمبر کو انسٹاگرام پر ایک پیغام پوسٹ کیا تھا، جس میں لوگوں سے چھتری چوک پہنچنے کی اپیل کی گئی تھی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ انسٹاگرام پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں عارف پٹھان نامی شخص کی جانب سے مبینہ طور پر لوگوں سے رات دو بجے مسجد کے قریب جمع ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔ پولیس سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ایسے پیغامات اور ویڈیوز کی بنیاد پر کارروائی کر رہی ہے۔
سڑک کی توسیع کا منصوبہ اجین کے گنجان علاقوں میں آمدورفت کو بہتر بنانے اور سمہستھا 2028 کے دوران عقیدت مندوں اور مذہبی جلوسوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے مقصد سے شروع کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے امن برقرار رکھنے، افواہوں پر یقین نہ کرنے اور غیر مصدقہ پیغامات یا ویڈیوز کو آگے شیئر نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
کلکٹر روشن کمار سنگھ کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔



