سرورققومی خبریں

سنبھل کیس میں مُلّا افروز کو سپریم کورٹ سے راحت، NSA حراست منسوخ، یوپی حکومت پر 10 لاکھ روپے جرمانہ

صرف مبینہ اعتراف کی بنیاد پر NSA حراست درست نہیں: سپریم کورٹ

نئی دہلی، 29 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سنبھل تشدد کیس میں سپریم کورٹ نے مُلّا افروز کی نیشنل سیکورٹی ایکٹ (NSA) کے تحت حراست ختم کردی ہے۔ عدالت نے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے مُلّا افروز کی درخواست منظور کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی منسوخ کردیا، جس میں اس کی NSA کے تحت حراست برقرار رکھی گئی تھی۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران یہ سوال اہم رہا کہ کیا پولیس حراست کے دوران سامنے آنے والے کسی اعترافی بیان کو کسی شخص کو NSA کے تحت حراست میں رکھنے کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایسا بیان معاملے میں موجود دیگر شواہد کا ایک حصہ ہوسکتا ہے، لیکن صرف اسی بنیاد پر کسی شخص کو نیشنل سیکورٹی ایکٹ کے تحت حراست میں نہیں رکھا جاسکتا۔ اس کے ساتھ دیگر حالات اور دستیاب شواہد کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

عدالت نے کہا کہ مُلّا افروز کے معاملے میں حراست کا حکم جاری کرتے وقت تمام اہم پہلوؤں پر مناسب توجہ نہیں دی گئی۔ سپریم کورٹ کے مطابق پریوینٹو ڈیٹینشن کا اختیار استعمال کرتے وقت قانون میں طے کیے گئے تمام تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔

یہ معاملہ 24 نومبر 2024 کو سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے عدالتی سروے کے دوران ہونے والے تشدد سے متعلق ہے۔ اس دوران چار افراد کی موت ہوئی تھی۔ واقعے کے بعد پولیس نے کئی مقدمات درج کیے تھے اور مُلّا افروز کو بھی ان معاملات میں ملزم بنایا گیا تھا۔

سنبھل پولیس نے مُلّا افروز کو 17 جنوری 2025 کو گرفتار کیا تھا۔ وہ تشدد سے متعلق مقدمات میں عدالتی حراست میں تھا۔ اسی دوران سنبھل کے ضلع مجسٹریٹ نے 13 اکتوبر 2025 کو اس کے خلاف نیشنل سیکورٹی ایکٹ کی دفعہ 3(2) کے تحت حراست کا حکم جاری کیا۔ بعد میں ریاستی حکومت نے بھی اس حکم کی منظوری دے دی۔

مُلّا افروز نے NSA کے تحت اپنی حراست کے خلاف الٰہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس نے عدالت میں کہا تھا کہ اسے حراست میں رکھنے کے لیے جو مواد استعمال کیا گیا، وہ کافی نہیں تھا اور اس معاملے میں پولیس کے سامنے دیے گئے مبینہ اعترافی بیان کو خاص اہمیت دی گئی تھی۔

دوسری طرف اتر پردیش حکومت نے عدالت میں کہا تھا کہ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے مواد سے مُلّا افروز کے تشدد کے دوران ہجوم کو اکسانے میں مبینہ کردار کا پتہ چلتا ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کی سرگرمیوں سے علاقے کے امن و امان پر اثر پڑنے کا خدشہ تھا۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے حکومت کی کارروائی کو درست قرار دیتے ہوئے NSA کے تحت مُلّا افروز کی حراست برقرار رکھی تھی۔ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ عدالت کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے متعلقہ مواد اور شواہد پر غور کیا تھا یا نہیں۔

سپریم کورٹ نے تاہم اس معاملے میں حراست کے لیے استعمال کیے گئے مواد کا جائزہ لینے کے بعد NSA کے تحت مُلّا افروز کی حراست ختم کردی۔ عدالت نے خاص طور پر پولیس حراست میں سامنے آنے والے مبینہ اعترافی بیان اور دیگر دستیاب شواہد کو دیکھنے کے طریقے پر غور کیا۔

اس سے قبل 8 ستمبر کو سپریم کورٹ کی بنچ نے اس معاملے میں فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ سماعت کے دوران بنچ نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ پولیس حراست میں سامنے آنے والا مبینہ بیان کسی شخص کو پریوینٹو ڈیٹینشن میں رکھنے کے لیے کافی بنیاد بن سکتا ہے یا نہیں۔

سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد مُلّا افروز کی NSA کے تحت حراست ختم ہوگئی ہے۔ عدالت نے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کی رقم بھی عائد کی ہے۔ تاہم سنبھل تشدد سے متعلق دیگر فوجداری مقدمات اپنی قانونی کارروائی کے مطابق جاری رہ سکتے ہیں۔

فیصلہ سناتے وقت جسٹس دیپانکر دتا نے اپنے لا کلرک کو بھی یاد کیا، جن کا 27ویں سالگرہ سے قبل انتقال ہوگیا تھا۔ جسٹس دتا نے یہ فیصلہ اپنے مرحوم لا کلرک کے نام وقف کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button