
سنگاپور میں بھارتی آئی ٹی مینیجر کو 18 ہزار سے زائد عدالتی فائلیں خطرے میں ڈالنے پر 28 ہفتے قید
18,016 عدالتی فائلوں والے سرکاری لیپ ٹاپ تک غیر مجاز ریموٹ رسائی دینے پر سزا،
سنگاپور، 29 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز) سنگاپور کی عدالت نے بھارتی آئی ٹی مینیجر جنارتھنن تمل کوون کو سرکاری لیپ ٹاپ تک غیر مجاز ریموٹ رسائی کی اجازت دینے کے جرم میں 28 ہفتے قید کی سزا سنائی ہے۔ مذکورہ لیپ ٹاپ میں اسٹیٹ کورٹس سے متعلق 18,016 فائلیں موجود تھیں، جن میں حساس سیکیورٹی معلومات اور عدالتی نیٹ ورک سے متعلق تفصیلات بھی شامل تھیں۔
42 سالہ جنارتھنن تمل کوون لینووو پی سی سی ڈبلیو سلوشنز میں سروس ڈیلیوری مینیجر کے طور پر کام کر رہے تھے اور جون 2024 سے سنگاپور کی اسٹیٹ کورٹس کے ساتھ بیرونی آئی ٹی وینڈر کی حیثیت سے وابستہ تھے۔ وہ عدالت کے کلاؤڈ سسٹم سے متعلق ٹیم کی سربراہی بھی کر رہے تھے۔
یہ معاملہ 4 اگست 2025 کو سامنے آیا، جب جنارتھنن کو ایک انفارمیشن سیکیورٹی سرٹیفکیشن امتحان دینا تھا۔ ان کے ذاتی لیپ ٹاپ کی اسکرین خراب تھی، جس کے باعث انہوں نے امتحان کے لیے سرکاری کام کا لیپ ٹاپ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم امتحانی نظام نے سرکاری لیپ ٹاپ کو سیکیورٹی جانچ کے دوران قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد جنارتھنن نے ہری بالن نامی ایک شخص سے رابطہ کیا، جس سے ان کی پہلے آئی ٹی کورسز کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی۔
ہری بالن نے انہیں UltraViewer نامی ریموٹ ایکسیس سافٹ ویئر انسٹال کرنے کا مشورہ دیا۔ جنارتھنن نے اپنے سرکاری لیپ ٹاپ پر یہ سافٹ ویئر انسٹال کیا اور دوسرے شخص کو ریموٹ رسائی کے لیے درکار معلومات فراہم کردیں۔
اس کے بعد تقریباً 10 منٹ تک لیپ ٹاپ تک ریموٹ کنکشن قائم رہا۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ جس ڈیوائس سے ریموٹ رسائی حاصل کی گئی، اس کا آئی پی ایڈریس بھارت سے منسلک تھا۔
اس وقت سرکاری لیپ ٹاپ میں اسٹیٹ کورٹس کی 18,016 فائلیں موجود تھیں۔ ان فائلوں میں لاگ اِن معلومات، سیکیورٹی کیز اور عدالت کے نیٹ ورک کے ڈھانچے سے متعلق تفصیلات شامل تھیں۔ ان میں ایک فائل انتہائی حساس اور محدود نوعیت کی تھی، جبکہ دیگر فائلیں بھی محدود رسائی کے زمرے میں شامل تھیں۔
ریموٹ کنکشن کے دوران پانچ ایگزیکیوٹیبل فائلیں بھی لیپ ٹاپ میں منتقل کی گئیں۔ ان میں سے دو فائلوں کو Windows Defender نے قرنطینہ کردیا، جبکہ تین فائلیں چلائی گئیں۔ ان فائلوں کے ذریعے لیپ ٹاپ کے فائر وال اور اینٹی وائرس کی سیکیورٹی سیٹنگز میں تبدیلی کی گئی۔
بعد میں اسٹیٹ کورٹس کی سیکیورٹی ٹیم کو لیپ ٹاپ میں مشتبہ سرگرمی کا علم ہوا۔ جنارتھنن سے پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے ابتدا میں UltraViewer کے استعمال سے انکار کیا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ جنارتھنن نے لیپ ٹاپ کی براؤزنگ ہسٹری حذف کردی اور UltraViewer سے متعلق فولڈر بھی مٹا دیا۔ بعد ازاں لیپ ٹاپ کو تحقیقات کے لیے حکام کے حوالے کیا گیا۔
استغاثہ کے مطابق اگرچہ اس واقعے میں عدالتی دستاویزات چوری یا باہر منتقل ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، لیکن لیپ ٹاپ میں موجود معلومات کے ذریعے حساس سرکاری سسٹمز تک غیر مجاز رسائی کی کوشش کی جاسکتی تھی۔ ان سسٹمز میں مقدمات سے متعلق معلومات اور ججوں کے نوٹس بھی موجود ہوسکتے تھے۔
ڈسٹرکٹ جج لورین ہو نے کہا کہ معاملے میں ممکنہ خطرہ سنگین تھا کیونکہ غیر مجاز رسائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سائبر حملے کا راستہ کھل سکتا تھا۔ اس سے عوامی تشویش پیدا ہونے کے ساتھ عدالتی کیس مینجمنٹ سسٹم پر اعتماد بھی متاثر ہوسکتا تھا۔
واقعے کا علم ہونے کے بعد سنگاپور کی اسٹیٹ کورٹس نے فوری طور پر سیکیورٹی اقدامات کیے۔ متعلقہ سیکیورٹی کیز اور پاس ورڈز تبدیل کیے گئے جبکہ سسٹمز اور نیٹ ورک ٹریفک لاگز کا بھی جائزہ لیا گیا تاکہ کسی غیر مجاز سرگرمی کا پتہ چلایا جاسکے۔
سنگاپور کی عدالتوں کے مطابق تحقیقات میں عدالتی دستاویزات کے ضائع ہونے یا کسی غیر مجاز شخص کی جانب سے عدالتی دستاویزات یا سسٹمز تک رسائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
استغاثہ نے جنارتھنن کے لیے سات سے نو ماہ قید کی سزا کی درخواست کی تھی۔ پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ وہ حساس معلومات رکھنے والے سرکاری لیپ ٹاپ کے ذمہ دار تھے اور اسٹیٹ کورٹس کی کلاؤڈ سسٹمز ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے انہیں غیر مجاز رسائی کے خطرات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے تھا۔
دفاعی وکلا نے عدالت سے تین سے چار ماہ کی سزا کی درخواست کی اور جنارتھنن کے خاندانی حالات کا حوالہ دیا۔ تاہم عدالت نے تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں ساڑھے 6 ماہ قید کی سزا سنادی۔



