قومی خبریں

گیانیش کمار کی فوری برطرفی کا مطالبہ، کھڑگے نے سی ای سی پر مرکزی حکومت کا ’کٹھ پتلی‘ ہونے کا الزام لگایا

’نوٹ بندی سے معیشت، ووٹ بندی سے جمہوریت ختم کرنے کی کوشش‘، کھڑگے

نئی دہلی، 29 ستمبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز) کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ الیکشن کمیشن مرکزی حکومت کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ووٹر کے حق، آئین اور جمہوری اداروں کا تحفظ اس وقت ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔

کھڑگے نے کہا کہ کانگریس کو ایک بار پھر ملک کی جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانی پڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق آزادی سے قبل عوام نے ووٹ کے حق کے حصول کے لیے جدوجہد کی تھی اور اب اس حق کے تحفظ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں جمہوری اداروں کی آزادی متاثر ہوئی ہے۔

کانگریس صدر نے ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے معاملے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی اہل شہری کا نام محض کسی افسر کی مرضی سے انتخابی فہرست سے نہیں ہٹایا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن ووٹرز کے نام حذف کیے گئے ہیں، انہیں مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور اپیل کا مناسب موقع دیا جائے۔

کھڑگے نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا حق کھو چکے ہیں اور انہیں فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گیانیش کمار کے اقدامات سے حکمران جماعت کو فائدہ پہنچنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں نے ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے حوالے سے بھی کئی سوالات اٹھائے۔ کھڑگے نے پوچھا کہ SIR کا فیصلہ کس نے کیا اور بعض الیکشن کمشنرز کو مبینہ طور پر داخلی پورٹل سے الگ رکھنے کی کیا وجہ تھی۔ ان کے مطابق انتخابی ادارے سے متعلق ایسے معاملات میں مکمل شفافیت ضروری ہے۔

کھڑگے نے راہل گاندھی کی جانب سے ووٹر لسٹ سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈپلیکیٹ ووٹرز، مشتبہ پتوں، ایک ہی پتے پر بڑی تعداد میں ووٹرز اور فارم 6 سے متعلق معاملات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن ان نکات پر سنجیدگی سے غور کرتا تو آج اس کی ساکھ پر اتنے سوالات نہ اٹھتے۔

کانگریس صدر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی آزادی جمہوریت کے تحفظ کی بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق آئینی اداروں سے سوال کرنا انہیں کمزور کرنا نہیں بلکہ ان کی شفافیت اور عوامی اعتماد کو مضبوط کرنا ہے۔

کھڑگے نے کہا کہ کانگریس کی جدوجہد کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد کے خلاف نہیں بلکہ ووٹر کے حق، آئین اور جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات اور حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، لیکن جمہوریت اور آئین مستقل اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے ووٹ کو غریب، دلت، محروم اور کمزور طبقات کی سب سے بڑی جمہوری طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حق کسی حکومت کی طرف سے دیا گیا تحفہ نہیں بلکہ طویل جدوجہد کے بعد حاصل ہوا ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ کانگریس کسی بھی ایسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی جس سے ووٹر کے حق کو نقصان پہنچے۔

کانگریس صدر نے چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کے مطالبے کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گیانیش کمار نے حکومت کے دباؤ میں کام کیا اور اس سے انتخابی ادارے کی ساکھ متاثر ہوئی۔

کھڑگے نے پارٹی کارکنوں سے ووٹر لسٹ کی شفافیت، انتخابی عمل کی منصفانہ حیثیت اور جمہوری اداروں کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہر اہل شہری کا ووٹ محفوظ رہنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button