قومی خبریں

راہل گاندھی کا سی ای سی گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ، ایس آئی آر کے خلاف مہم جاری رکھنے کا اعلان

راہل گاندھی اور کھڑگے کا گیانیش کمار کے خلاف محاذ، استعفیٰ اور SIR ختم کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی، 29 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپنا مطالبہ مزید شدت کے ساتھ اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کو کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کے اجلاس میں لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ پارٹی گیانیش کمار کے استعفے تک اس معاملے پر اپنی مہم جاری رکھے گی۔

راہل گاندھی نے اجلاس میں کہا کہ ’’گیانیش کمار کو جانا ہوگا‘‘۔ ان کے مطابق کانگریس کا مطالبہ صرف چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے استعفے تک محدود نہیں بلکہ پارٹی انتخابی فہرستوں اور SIR سے متعلق اپنے اعتراضات بھی مسلسل اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس معاملے پر اپنی سیاسی مہم جاری رکھے گی، چاہے گیانیش کمار اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں یا نہیں۔

CWC اجلاس میں راہل گاندھی نے حکومت کے سامنے کانگریس کے تین اہم مطالبات بھی پیش کیے۔ ان میں گیانیش کمار کا استعفیٰ، SIR کو ختم کرنا اور وزیر اعظم نریندر مودی و مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے اس معاملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔

کانگریس طویل عرصے سے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر سوال اٹھاتی رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام حذف کرنے یا دیگر تبدیلیاں کرنے کے عمل میں شفافیت ضروری ہے اور جن اہل شہریوں کے نام انتخابی فہرست سے نکالے جائیں، انہیں اس کی وجہ بتانے کے ساتھ اعتراض اور اپیل کا مناسب موقع بھی ملنا چاہیے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی اخلاقی بنیادوں پر استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتخابی عمل اور ووٹر لسٹوں سے متعلق کئی سوالات اٹھائے۔

کھڑگے نے کہا کہ انتخابی فہرستوں میں کی جانے والی بڑی تبدیلیوں سے متعلق مکمل اعداد و شمار عوام کے سامنے لائے جانے چاہئیں اور سیاسی جماعتوں کو بھی ووٹر لسٹوں اور متعلقہ ڈیٹا تک مناسب رسائی دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق شفاف معلومات کی دستیابی سے سیاسی جماعتیں اور عوام انتخابی فہرستوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔

کانگریس صدر نے الزام عائد کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے طرز عمل سے الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری سے متعلق سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کا مؤقف کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد کے خلاف نہیں بلکہ انتخابی اداروں کی شفافیت، خودمختاری اور ووٹر کے حق کے تحفظ سے متعلق ہے۔ یہ الزامات کانگریس کے سیاسی مؤقف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

کھڑگے نے راہل گاندھی کی جانب سے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈپلیکیٹ ووٹرز، مشتبہ پتے، ایک ہی پتے پر غیر معمولی تعداد میں ووٹرز اور فارم 6 سے متعلق معاملات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ کانگریس صدر کے مطابق ایسے معاملات پر الیکشن کمیشن کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں اور انتخابی عمل سے متعلق اہم معلومات عوام اور تمام سیاسی جماعتوں کے لیے آسان اور شفاف انداز میں دستیاب ہونی چاہئیں۔ ان کے مطابق انتخابی اداروں کی آزادی اور فیصلوں میں شفافیت ہی ووٹرز کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کھڑگے نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے دور میں ووٹ ڈالنے کی عمر 21 سال سے کم کرکے 18 سال کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوانوں کی سیاسی شرکت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے فارم 6 سے متعلق قواعد میں تبدیلیوں پر بھی سوال اٹھایا اور دعویٰ کیا کہ اس سے نئے ووٹرز کے اندراج کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ بھی کانگریس کی جانب سے پیش کیا گیا سیاسی مؤقف ہے۔

کانگریس صدر نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور آئین ساز اسمبلی میں ووٹ کے حق سے متعلق بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام میں ہر بالغ شہری کی سیاسی شرکت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق کسی اہل شہری کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔

کھڑگے نے SIR سے متعلق الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے یہ جاننے کا مطالبہ کیا کہ SIR سے متعلق فیصلہ کس سطح پر کیا گیا اور بعض انتخابی حکام کو مبینہ طور پر انٹرنل پورٹل سے باہر رکھنے کی کیا وجہ تھی۔ ان کے مطابق ایسے معاملات پر متعلقہ اداروں کو واضح معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔

کانگریس نے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے معاملے میں حکومت اور الیکشن کمیشن کے سامنے پانچ اہم مطالبات رکھنے کا بھی اعلان کیا۔ پارٹی کے مطابق انتخابی فہرستوں میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا مکمل ڈیٹا عوام کے سامنے لایا جائے، حذف کیے گئے ناموں کے بارے میں متعلقہ ووٹرز کو معلومات فراہم کی جائیں اور انہیں اعتراض و اپیل کا مناسب موقع دیا جائے۔

پارٹی نے سیاسی جماعتوں کو ووٹر لسٹوں اور متعلقہ اعداد و شمار بروقت اور قابل استعمال فارمیٹ میں فراہم کرنے، سنگین بے ضابطگیوں کے الزامات کی صورت میں آزادانہ اور بروقت تحقیقات کرنے اور انتخابی عمل سے متعلق اہم معلومات میں زیادہ شفافیت اختیار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

کھڑگے نے کہا کہ انتخابات کے نتائج اور حکومتیں وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں، لیکن آئین اور جمہوری نظام کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام ووٹر کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ اس کا ووٹ محفوظ ہے اور انتخابی عمل میں اس کے حق کا احترام کیا جا رہا ہے۔

کانگریس نے کہا ہے کہ وہ ووٹر لسٹوں کی شفافیت، انتخابی عمل اور آئینی اداروں کی خودمختاری سے متعلق اپنے مطالبات کو پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی اٹھاتی رہے گی۔ راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کے تازہ بیانات سے واضح ہے کہ SIR اور الیکشن کمیشن کے کردار سے متعلق سوالات کانگریس کی موجودہ سیاسی مہم کا اہم حصہ بن گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button