
15 سال سے جیل میں قید 65 سالہ کفیل احمد کو بامبے ہائی کورٹ سے راحت,جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) کی قانونی پیروی
مہاراشٹر سے باہر کے شخص کی ضمانت پیش کرنے کی اجازت
ممبئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں گزشتہ تقریباً 15 برس سے جیل میں قید 65 سالہ کفیل احمد کو بامبے ہائی کورٹ سے راحت ملی ہے۔ عدالت نے اسے ضمانت کی شرط پوری کرنے کے لیے مہاراشٹر سے باہر رہنے والے کسی شخص کی ضمانت پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت کے اس حکم کے بعد کفیل احمد کی جیل سے رہائی کا راستہ آسان ہوگیا ہے۔
بامبے ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ میں جسٹس سارنگ ویجے کمار کوتوال اور جسٹس رنجیت سنہا راجا بھوسلے شامل تھے۔ بینچ نے کفیل احمد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ یہ درخواست جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی قانونی امداد کمیٹی کے ذریعے داخل کی گئی تھی۔
سماعت کے دوران کفیل احمد کی جانب سے ایڈووکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل عدالت نے ملزم کو ضمانت دے دی تھی، لیکن ضمانت کی شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے وہ اب تک جیل میں ہے۔ وکیل کے مطابق کفیل احمد کا تعلق بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی ایسا شخص موجود نہیں جو اس کی ضمانت پیش کرسکے۔
ایڈووکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ کفیل احمد کی عمر 65 برس ہوچکی ہے اور وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہے۔ طویل عرصے سے جیل میں رہنے کے باعث اسے صحت کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے وکیل نے عدالت سے ضمانت کی موجودہ شرط میں تبدیلی کی درخواست کی، تاکہ کفیل احمد دیگر قانونی شرائط پوری کرکے جیل سے باہر آسکے۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی مخالفت کی۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے کہا کہ ملزم سنگین نوعیت کے الزامات کا سامنا کررہا ہے، اس لیے ضمانت کی شرائط میں نرمی نہیں کی جانی چاہیے۔
عدالت نے بھی ابتدائی طور پر ضمانت کی شرط میں تبدیلی کے معاملے پر تحفظات کا اظہار کیا، تاہم ایڈووکیٹ متین شیخ کے دلائل سننے اور ملزم کی عمر و موجودہ حالات کو دیکھنے کے بعد عدالت نے مہاراشٹر سے باہر رہنے والے کسی شخص کی ضمانت پیش کرنے کی اجازت دے دی۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے مطابق تقریباً دو ہفتے قبل کفیل احمد کے بیٹے نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے دوران اس نے اپنے 65 سالہ والد کی طویل قید اور ضمانت منظور ہونے کے باوجود جیل سے رہائی نہ ہوپانے کا مسئلہ پیش کیا اور قانونی مدد کی درخواست کی۔ اس کے بعد جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے بامبے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔
کفیل احمد پر ممبئی میں 13 جولائی کو ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے مقدمے میں دیگر ملزمین کے ساتھ مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ دھماکے ممبئی کے مختلف مقامات پر ہوئے تھے اور اس معاملے میں متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مقدمے میں کفیل احمد سمیت دیگر ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302، 307، 326، 325، 324، 379، 109 اور 120-B کے علاوہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA)، دھماکہ خیز مادہ قانون اور مکوکا (MCOCA) کی مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی قانونی امداد کمیٹی کے مطابق اس مقدمے میں نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان اور زین العابدین عبدالرزاق سمیت دیگر ملزمین کو قانونی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
سیشن عدالت میں ملزمین کی پیروی کے لیے ایڈووکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈووکیٹ شریف شیخ، ایڈووکیٹ حسنین قاضی اور دیگر وکلا پیش ہورہے ہیں۔
بامبے ہائی کورٹ کے تازہ حکم کے بعد 65 سالہ کفیل احمد کے لیے ضمانت کی شرط پوری کرنا آسان ہوگیا ہے۔ اب مہاراشٹر سے باہر رہنے والے کسی شخص کی ضمانت پیش کیے جانے اور عدالت کی دیگر قانونی شرائط پوری ہونے کے بعد اس کی رہائی ممکن ہوسکے گی۔ مقدمے میں عائد الزامات کے بارے میں حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت میں جاری قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔



